بنیادی مسائل کے جوابات — Page 18
اباضیہ فرقہ کی حدیث کی کتاب مسند الربیع بن حبیب سوال: ایک عرب دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ اباضیہ فرقہ کی حدیث کی کتاب مسند الربیع بن حبیب میں بیان احادیث کو جماعت احمد یہ صحیح سمجھتی اور ان پر عمل کرتی ہے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 30 مئی 2020ء میں اس استفسار پر درج ذیل ارشاد فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: احادیث نبویہ الم کے بارہ میں جماعت احمدیہ کا عقیدہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں یہ ہے کہ قرآن کریم اور سنت کے بعد تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے اور وہ قرآن کی خادم اور سنت کی خادم ہے۔لیکن جو حدیث قرآن اور سنت کے نقیض ہو اور نیز ایسی حدیث کی نقیض ہو جو قرآن کے مطابق ہے یا ایسی حدیث ہو جو صحیح بخاری کے مخالف ہے تو وہ حدیث قبول کے لائق نہیں ہو گی۔کیونکہ اس کے قبول کرنے سے قرآن کو اور ان تمام احادیث کو جو قرآن کے موافق ہیں رڈ کرنا پڑتا ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن و سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنیٰ درجہ کی حدیث ہو اس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو ترجیح دیں۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ قرآن شریف کی اتباع کریں۔اور احادیث کی جو پیغمبر خدا سے ثابت ہیں اتباع کریں۔ضعیف سے ضعیف حدیث بھی بشر طیکہ وہ قرآن شریف کے مخالف نہ ہو ہم اسے واجب العمل سمجھتے ہیں۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی حدیث نصوص بینه قطعیہ صریحہ الدلالت قرآن کریم سے صریح مخالف واقع ہو گو وہ بخاری کی ہو یا مسلم کی میں ہر گز اس کی خاطر اس طرز کے معنی کو جس سے مخالفت قرآن لازم آتی ہے قبول نہیں کروں گا۔پس جو بھی حدیث مذکورہ بالا معیار کے مطابق ہو گی، خواہ وہ کسی بھی کتاب کی ہو جماعت احمد یہ کے نزدیک قابل قبول اور قابل حجت ہے۔(قسط نمبر 24، الفضل انٹر نیشنل 03 دسمبر 2021ء صفحہ 11) 18