بنیادی مسائل کے جوابات — Page 608
وفات شدگان سوال: ایک عرب خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے باقی ہوں تو اس کے بچے اس کی طرف سے یہ روزے رکھ سکتے ہیں، اس بارہ میں جماعت کا کیا موقف ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 24 مئی 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: نماز اور روزہ بدنی عبادات ہیں، اس لئے ان کا ثواب اسی شخص کو پہنچتا ہے جو اُن عبادات کو بجالا تا ہے۔اس لئے ہمارے نزدیک میت کی طرف سے نماز اور روزے رکھنا مرنے والے کی اولاد کی ذمہ داری نہیں ہے۔فقہاء کی اکثریت جن میں حضرت امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی شامل ہیں، ان روزوں کے رکھنے کو درست نہیں سمجھتے اور ان کی بھی یہی دلیل ہے کہ روزہ ایک بدنی عبادت ہے جو اصول شرع سے واجب ہوتی ہے اور زندگی اور موت کے بعد اس میں نیابت نہیں چلتی۔(الفقہ الاسلامي و ادلته کتاب الصوم، از ڈاکثر وهبة الزحيلي باقی جہاں تک کتب احادیث میں اس قسم کی روایات کے بیان ہونے کا تعلق ہے تو علماء حدیث اور شارحین نے ان روایات کی تشریح میں اس سے مختلف روایات کا بھی ذکر کیا ہے مثلاً میت کی طرف سے اس کے اولاد کے روزہ رکھنے والی روایات حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس سے مروی ہیں، لیکن کتب احادیث میں حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس کی طرف سے یہ روایت بھی موجود ہے کہ وفات یافتہ کی طرف سے روزے نہ رکھو بلکہ اس کی طرف سے کھانا کھلاؤ۔(فتح الباري شرح صحيح بخاري كتاب الصوم بَاب مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَوْم) اسی طرح حضرت ابن عباس سے مروی اس قسم کی روایات میں کئی اختلافات پائے جاتے ہیں۔چنانچہ ایک جگہ سوال پوچھنے والا مرد ہے اور دوسری جگہ عورت۔اسی طرح روزوں کے بارہ میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ وہ رمضان کے روزے تھے یا نذر کے روزے تھے۔نیز ایک جگہ روزوں کی بابت پوچھا جارہا ہے اور دوسری جگہ حج کی بابت پوچھا ہے۔(شرح بخاري از حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب، 608