بنیادی مسائل کے جوابات — Page 606
وفات سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں خط لکھا کہ بعض دوستوں کی طرف سے اس کے کزن کی وفات پر نامناسب رویہ کا اظہار کیا گیا ہے، جس پر اسے شدید دکھ ہے۔نیز اس دوست نے حضور انور سے دریافت کیا کہ کیا اسلام کی مخالفت پر فوت ہونے والے کسی عزیز کے لئے دعا کرنے سے قرآن کریم ہمیں منع فرماتا ہے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 13 دسمبر 2020ء میں اس بارہ میں درج ذیل رہنمائی فرمائی: جواب: آپ کے کزن کی وفات پر اگر کسی احمدی نے کسی نامناسب رویہ کا اظہار کیا ہے تو یقیناً اس احمدی نے غلط کیا ہے۔ہر انسان کی وفات کے بعد اس کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہو جاتا ہے، وہ جو چاہے اس کے ساتھ سلوک کرے کسی دوسرے شخص کو اس بارہ میں کوئی رائے قائم کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ہر ایک شخص کا خدا تعالیٰ سے الگ الگ حساب ہے۔سوہر ایک کو اپنے اعمال کی اصلاح اور جانچ پڑتال کرنی چاہیئے۔دوسروں کی موت تمہارے واسطے عبرت اور ٹھوکر سے بچنے کا باعث ہونی چاہیے نہ کہ تم ہنسی ٹھٹھے میں بسر کر کے اور بھی خدا تعالیٰ سے غافل ہو جاؤ۔66 ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 217) باقی جیسا کہ آپ نے عابد خان صاحب کی ڈائری کے حوالہ سے اپنے خط میں لکھا ہے ، میر اجواب تو آپ نے پڑھ ہی لیا ہے کہ ہم اسے کسی قسم کا کوئی خدائی نشان قرار نہیں دے سکتے کیونکہ آپ کے کزن کا نہ تو جماعت احمدیہ کے ساتھ کوئی مقابلہ چل رہا تھا اور نہ ہی اس نے جماعت کو کوئی ایسا چیلنج دیا تھا جس سے مقابلہ سمجھا جائے۔اسلام کسی انسان سے نفرت نہیں سکھاتا بلکہ اس کے فعل سے ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں حضرت لوط علیہ السلام اپنے مخالفین کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ میں 606