بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 601 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 601

والدین سوال : نظارت اصلاح و ارشاد مرکز یہ ربوہ نے کتب احادیث میں مروی والد کی اپنی اولاد کے حق میں دعا اور اولاد کے خلاف بد دعا دونوں کے قبول ہونے کے متعلق روایات اور ان کے عربی الفاظ کی مختلف لغات سے تشریح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں پیش کر کے رہنمائی چاہی کہ ان میں سے کونسی روایت اور کس ترجمہ کو اختیار کیا جائے؟ حضور انور نے اپنے مکتوب مؤرخہ 25 فروری 2015ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: اگر والد کی اپنی اولاد کے لئے دعا ترجمہ کر دیا جائے تو حدیث کا ترجمہ واضح ہو جاتا ہے۔لیکن کتب احادیث میں مروی دونوں قسم کی احادیث اپنی اپنی جگہ پر درست اور ہماری رہنمائی کر رہی ہیں۔دونوں احادیث کو سامنے رکھیں تو مضمون یہ بنے گا کہ جس شخص کی دعا قبولیت کا درجہ رکھتی ہے اس کی بد دعا بھی قبول ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ دعا تو قبول کروں گا اور بد دعا قبول نہیں کروں گا۔والد کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام عطا فرمایا ہے اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ اس کی دعائیں بھی قبول کرتا ہے اور بد دعا بھی سنتا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں والدین کے متعلق خاص طور پر فرمایا ہے کہ: وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا أُفٌ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ۖ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔(سورة بني اسرائيل: 24-25 یعنی تیرے رب نے (اس بات کا) تاکیدی حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور (نیز یہ کہ اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرو۔اگر ان میں سے کسی ایک پر یا ان دونوں پر تیری زندگی میں بڑھاپا آجائے تو انہیں (ان کی کسی بات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے) 601