بنیادی مسائل کے جوابات — Page 592
کسی نے گزشتہ رات کوئی خواب دیکھا ہو تو وہ اسے بیان کرے۔(صحيح بخاري كتاب الاذان بَاب يَسْتَقْبِلُ الْإِمَامُ النَّاسَ إِذَا سَلَّمَ، كتاب الجنائز باب مَا قِيلَ فِي أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ۔سنن ابن ماجه المقدمه باب اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ) پھر حدیث میں حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی موجود ہے کہ تم میں سے جمعہ کے دن جو کوئی ایسے وقت میں مسجد آئے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہیئے کہ پہلے دو رکعات اختصار کے ساتھ ادا کرے اور پھر خطبہ سننے کے لئے بیٹھے۔(مسلم کتاب الجمعة باب التحية والامام يخطب) ان تمام احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ کسی شخص کے سنتیں پڑھنے کے وقت اگر امام درس شروع کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔کیونکہ اگر یہ درست نہ ہو تا تو آنحضرت ام جمعہ کے لئے دیر سے آنے والے شخص کو یہ حکم نہ دیتے کہ تم خطبہ کے دوران دو رکعات نماز پڑھ لو۔اسی طرح درس کے دوران اگر کوئی شخص سنتیں ادا کرتا ہے تو یہ بھی قابل اعتراض بات نہیں کیونکہ نماز کے فوراً بعد سنتیں پڑھنا ضروری ہے، درس سننا ضروری نہیں۔خصوصاً نماز فجر کے بعد جبکہ وقت کم ہو اور سورج نکلنے کا اندیشہ ہو تو فوری طور پر سنتیں ادا کرنی چاہئیں۔باقی جہاں تک اس معاملہ کا انتظامی پہلو ہے تو میرے نزدیک اگر درس ایسی نماز کے ساتھ ہو جس کے بعد بھی سنتوں کی ادائیگی مسنون ہو جیسے نماز ظہر ، مغرب یا عشاء تو پھر سنتوں کی ادائیگی کے بعد درس دینا چاہیے لیکن اگر نماز کے بعد سنتیں نہ ہوں تو پھر نماز کے معابعد درس شروع کیا جا سکتا ہے۔اس صورت میں اگر کوئی شخص نماز فجر کی پہلے کی دو سنتیں فرض نماز کے بعد ادا کرتا ہے تو وہ درس کے دوران بھی ان سنتوں کی ادائیگی کر سکتا ہے۔(قسط نمبر 53، الفضل انٹر نیشنل 29 اپریل 2023ء صفحہ 5) 592