بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 586 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 586

نماز جنازہ سوال : نارووال پاکستان سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ کیا نماز جنازہ نماز ہے یا اسے ایسے ہی نماز کا نام دیدیا گیا ہے کیونکہ اس کے لئے مکروہ اوقات کا خیال نہیں رکھا جاتا؟ نیز کیا ایک مسجد میں دو جمعے ہو سکتے ہیں ؟ ربوہ میں ڈیوٹی والے اسی مسجد میں علیحدہ خطبہ دے کر الگ جمعہ پڑھتے ہیں، جبکہ فقہ احمد یہ میں اس کی نفی کی گئی ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 07 جنوری 2022ء میں ان سوالات کے بارہ میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: نماز جنازہ بھی ایک طرح کی نماز ہی ہے لیکن چونکہ اس میں نماز جنازہ ادا کرنے والوں کے سامنے مرنے والے کی نعش موجود ہوتی ہے اس لئے اس میں رکوع و سجود نہیں رکھے گئے تا کہ کسی بھی قسم کے شرک کا احتمال پیدا نہ ہو۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر کبیر میں جہاں مختلف نمازوں کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں، وہاں نماز جنازہ کی بھی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا ہے: ان نمازوں کے علاوہ ایک ضروری نماز جنازہ کی نماز ہے۔یہ فرض کفایہ ہے۔۔۔جنازہ کی نماز میں دوسری نمازوں کے برخلاف رکوع اور سجدہ نہیں ہو تا بلکہ اس کے سب حصے کھڑے کھڑے ادا کئے جاتے ہیں۔۔۔اس نماز کے چار حصے ہوتے ہیں۔امام قبلہ رُو کھڑ ا ہو کر بلند آواز سے سینہ پر ہاتھ باندھ کر تکبیر کہہ کر اس نماز کو شروع کرتا ہے۔اس نماز سے پہلے اقامہ نہیں کہی جاتی۔“ (تفسیر کبیر جلد اوّل صفحہ 115) نماز جنازہ کے لئے کوئی مکروہ اوقات نہیں ہیں۔فقہاء میں اس بارہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔نماز فجر اور نماز عصر کے بعد جس طرح نفلی نماز ادا کرنے کی ممانعت ہے، نماز جنازہ کی ادائیگی کے 586