بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 577 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 577

سوال : ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ اگر گھر میں مردوں کے ہوتے ہوئے صرف عورت اس قابل ہو کہ نماز پڑھا سکے تو کیا وہ نماز پڑھا سکتی ہے۔اور اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 16 جنوری 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: اسلامی تعلیم کی یہ خوبی ہے کہ اس میں مردوں اور عورتوں کے حقوق و فرائض ان کے طبائع کے مطابق الگ الگ مقرر کئے گئے ہیں۔چنانچہ نماز باجماعت بھی صرف مردوں پر فرض کی گئی اور عورتوں کو اس سے رخصت دی گئی اور عورتوں کا باجماعت نماز ادا کرنا محض نفلی حیثیت قرار دیا گیا ہے۔اس لئے مردوں کی موجودگی میں کوئی عورت نماز باجماعت میں ان کی امام نہیں بن سکتی۔آنحضور ﷺ اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء نے کبھی کسی عورت کو مردوں کی امامت کا منصب تفویض نہیں فرمایا۔اس زمانہ کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی جب بعض اوقات کسی علالت کی وجہ سے گھر پر نماز ادا فرماتے تو نماز کی امامت خود کراتے اور حضور علیہ السلام کو چونکہ کھڑے ہونے سے چکر آجایا کرتا تھا اس لئے حضرت اناں جان کو پیچھے کھڑا کرنے کی بجائے مجبوراً اپنے ساتھ کھڑا کر لیتے تھے۔پس اگر کسی جگہ پر مرد اور عور تیں دونوں ہوں تو نماز کا امام مرد ہی ہو گا کیونکہ جو مرد نماز پڑھنے کی اہلیت رکھتا ہے اور اس کی اپنی نماز صحیح ہو جاتی ہے تو اس کی امامت میں دوسروں کی نماز بھی صحیح ہو گی۔(قسط نمبر 30، الفضل انٹر نیشنل 11مارچ 2022ء صفحہ 11) 577