بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 574 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 574

سوال : حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ نیشنل عاملہ لجنہ اماء اللہ بنگلہ دیش کی Virtual ملاقات مؤرخہ 14 نومبر 2020ء میں ایک ممبر لجنہ نے حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ چھوٹے بچوں والی ماؤں کو نماز کے وقت بچہ کو ساتھ لے کر یا گود میں اٹھا کر نماز پڑھنا پڑتی ہے۔اس وقت فطرتاً نماز سے زیادہ بچہ کی طرف توجہ رہتی ہے۔اس سے ہم نماز کی فضیلت سے محروم تو نہیں ہو رہی ہو تیں؟ حضور نے فرمایا: جواب نہیں محروم نہیں ہو رہی ہوتیں۔لیکن آپ یہ کیا کریں کہ جب بچہ روتا ہے تو اس کو گود میں اٹھالیا اور نماز پڑھ لی اور پھر جب سجدہ میں گئے تو بچہ کو ایک سائید پر بٹھا دیا پھر نماز پڑھ لی۔یہ تو اضطراری حالت ہے۔اللہ تعالیٰ دلوں کا حال جانتا ہے۔کیونکہ آپ نیک نیتی سے نماز پڑھ رہی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کا ثواب دیتا ہے۔لیکن نماز کا وقت آپ کے پاس کافی ہوتا ہے۔فجر کے وقت تو بچے عموماً سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔یا فیڈر یا دودھ دے کے، یا فیڈ دے کے اس کو سُلا کے آپ آرام سے فجر کی نماز پڑھ سکتی ہیں۔عام طور پر کوشش یہ کریں کہ بچہ کو سلانے کے بعد یا بچہ کو فیڈ دے دی ہے تو پھر اس کے بعد اس کو لٹا کے اگر وقفہ ہے تو پھر آرام سے نماز پڑھیں۔اور اگر وقفہ تھوڑا ہے مثلاً سورج ڈوب رہا ہے یا فجر کی نماز پہ سورج نکل رہا ہے تو پھر مجبوری ہے کہ جلدی جلدی نماز پڑھ لینی ہے۔یا آپ کی عصر کی نماز سورج ڈوبنے کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہے تو جلدی سے پڑھ لیں۔لیکن عموماً کوشش یہ کریں کہ بچہ سے فارغ ہونے کے بعد اس کو سُلا کے لٹا کے آپ اپنی نماز پڑھ لیں۔لیکن اگر مجبوری میں آپ کو بچہ کو گود میں لے کے پڑھنی بھی پڑھتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔لیکن اس میں کوشش کریں کہ جتنی زیادہ توجہ آپ نماز کی طرف قائم کر سکتی ہیں قائم رکھیں، نماز کے جو الفاظ ہیں ان غور کرتی رہیں۔اللہ تعالیٰ تو ثواب دینے والا ہے، اللہ تعالیٰ رحمن رحیم ہے اور بخشش کرنے والا بھی ہے۔تو اللہ تعالیٰ یہ ظلم نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ کو ساری صورت حال پتا ہے۔لیکن اگر ساری کوششوں کے باوجو د کسی عورت کے پاس وقت نہیں رہتا اور اس کو بچہ کو گود میں لے کے نماز پڑھنا مجبوری ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا ثواب دینے والا ہے ، دیتا ہے۔(قسط نمبر 19، الفضل انٹر نیشنل 20 اگست 2021ء صفحہ 11) 574