بنیادی مسائل کے جوابات — Page 573
سوال: ایک دوست نے آنحضور ﷺ کے ارشاد کہ بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں نماز نہ پڑھنے پر انہیں سزا دو“ کے متعلق حضور کی خدمت اقدس رہنمائی کی درخواست کی۔جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ 02 فروری 2019ء میں درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: اسلام کی تعلیم کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اعتدال پر مبنی تعلیم ہے۔آنحضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی اپنے اندر اسی اعتدال کو سموئے ہوئے ہے کہ عبادت جو کہ ہر انسان کی پیدائش کا اولین مقصد ہے، بچپن سے ہی اس پر زور دیا جائے اور بچوں کو اپنے نمونہ کے ساتھ ساتھ نماز پڑھنے کی تلقین کی جائے۔تین سال کی مسلسل تلقین اور نصائح کے بعد بھی اگر بچہ اس کی پابندی نہ کرے تو اسے ایک وقت تک مناسب سزا دینے کا حکم ہے۔لیکن یہ سزا ایسی نہیں ہونی چاہیئے جس میں سزا دینے والے کی طرف سے اس بچہ کے ساتھ ایک دشمنی کا رنگ ہو یا انسان یہ تصور کرے کہ اس سزا کے نتیجہ میں وہ ضرور اس بچہ کو نماز کا عادی بنا سکتا ہے۔بلکہ اس سزا میں بھی یہ امر ہی پیش نظر ہونا چاہیئے کہ تربیت محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہو سکتی ہے، جس کے حصول کا اصل ذریعہ دعا ہی ہے۔اور جو سزا دینے کی راہ اختیار کی جا رہی ہے وہ بھی دراصل اللہ تعالیٰ ہی کے رسول کے حکم پر اختیار کی جارہی ہے تاکہ بچہ اس سے عبرت پکڑ کر نماز کی طرف راغب ہو جائے۔پھر جب بچہ Mature ہو جائے اور بارہ تیرہ سال کی عمر کو پہنچ کر اچھے بُرے کی سمجھ اس میں پیدا ہو جائے تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپر د کر کے اس کے لئے صرف دعا اور وعظ و نصیحت کے طریق کو اپنانا چاہیئے۔ایسی ہی سزا کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: "اگر کوئی شخص خود دار اور اپنے نفس کی باگ کو قابو سے نہ دینے والا اور پرا متحتمل اور بردبار اور با سکون اور باوقار ہو تو اسے البتہ حق پہنچتا ہے کہ کسی وقت مناسب پر کسی حد تک بچہ کو سزا دے یا چشم نمائی کرے۔“ (قسط نمبر 9، الفضل انٹر نیشنل 12 فروری 2021ء صفحہ 12) 573