بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 560 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 560

سوال : یو کے سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا کہ قرآن کریم میں جنتیوں کو نظریں جھکائیں رکھنے والی اور نیک خصال دوشیزائیں ملنے کا وعدہ دیا گیا ہے۔ہماری زبان میں دوشیزہ کا مطلب عورت ہوتا ہے۔اگر یہ عورتیں ہیں تو یہ انعام تو صرف مرد کو ہی ملا، مومن عورتوں کے لئے جنت میں کیا ہے؟ نیز کیا عورت صرف مرد کے لئے ہی پید ا کی گئی ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 09 اپریل 2022ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: : جواب: جنت کی نعماء کے بارہ میں قرآن کریم اور احادیث نبویہ الم میں جو امور بیان ہوئے ہیں وہ سب تمثیلی کلام پر مبنی ہیں اور صرف ہمیں سمجھانے کے لئے ان چیزوں کی دنیاوی اشیاء کے ساتھ مماثلت بیان کی گئی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ یعنی اس جنت کی مثال جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے ( یہ ہے)۔پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: (الرعد:36) فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِّن قُرَّةٍ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (السجدہ:18) یعنی کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لئے ان کے اعمال کے بدلہ کے طور پر کیا کیا آنکھیں ٹھنڈی کرنے والی چیز میں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔اسی طرح حضور اللم نے فرمایا: يَقُولُ اللهُ تَعَالَي أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِيْنَ مَا لَا عَيْن رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَي قَلْبِ بَشَرٍ ذُخْرًا مِنْ بَلْهِ مَا أُطْلِعْتُمْ عَلَيْهِ 560 (صحيح بخاري كتاب التفسير)