بنیادی مسائل کے جوابات — Page 558
اسی طرح فرمایا: مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَي إِلَّا مِثْلَهَا وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثي وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ۔(المؤمن: 41) یعنی جو بُرا عمل کرے گا اس کو اسی کے مطابق نتیجہ ملے گا اور جو کوئی ایمان کے مطابق عمل کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت، بشر طیکہ وہ ایمان میں سچا ہو وہ اور اس کے ہم مشرب لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کو اس میں بغیر حساب کے انعام دیا جائے گا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اسی امر کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پہلی قوموں نے مردوں کے متعلق بے شک قوانین تجویز کئے تھے مگر عورتوں کے حقوق کا انہوں نے کہیں ذکر نہیں کیا تھا۔رسول کریم ام وہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے یہ تعلیم دی کہ جیسے مردوں کے حقوق عورتوں کے ذمہ ہیں اسی طرح عورتوں کے حقوق مردوں کے ذمہ ہیں۔وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ جس طرح عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں، اسی طرح عورتوں کے بھی بہت سے حقوق ہیں جو مردوں کو ادا کرنے چاہئیں۔پھر ہر شعبہ زندگی میں عورت کی ترقی کے راستے آپ نے کھولے۔اسے جائداد کا مالک قرار دیا۔اس کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھا۔اس کی تعلیم کی نگہداشت کی۔اس کی تربیت کا حکم دیا۔اور پھر فیصلہ کر دیا کہ جس طرح جنت میں مرد کے لئے ترقیات کے غیر متناہی مراتب ہیں اسی طرح جنت میں عورتوں کے لئے بھی غیر متناہی ترقیات کے دروازے کھلے ہیں۔(خطبہ جمعہ ارشاد فرموده مؤرخہ 26 نومبر 1937، مطبوعہ الفضل 4 دسمبر 1937ء صفحہ 5) ایک اور موقعہ پر حضور نے فرمایا: قرآن کریم کو شروع سے آخر تک پڑھ کر دیکھ لو تمام مسائل ،احکام اور انعامات میں عورت اور مرد دونوں کا ذکر ہے۔مثلاً اگر یہ کہا جاتا ہے کہ نیک مرد تو ساتھ ہی کہا جاتا ہے نیک عور تیں۔اگر کسی جگہ ذکر ہے کہ عبادت کرنے والے مرد تو ساتھ ہی یہ ذکر ہو گا کہ عبادت کرنے والی 558