بنیادی مسائل کے جوابات — Page 557
سر چشمہ روح اور راستی ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 397-398) حضور علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: ”اسلامی بہشت کی یہی حقیقت ہے کہ وہ اس دنیا کے ایمان اور عمل کا ایک ظل ہے۔وہ کوئی نئی چیز نہیں جو باہر سے آکر انسان کو ملے گی بلکہ انسان کی بہشت انسان کے اندر ہی سے نکلتی ہے اور ہر ایک کی بہشت اسی کا ایمان اور اس کے اعمال صالحہ ہیں جن کی اسی دنیا میں لذت شروع ہو جاتی ہے اور پوشیدہ طور پر ایمان اور اعمال کے باغ نظر آتے ہیں۔اور نہریں بھی دکھائی دیتی ہیں۔لیکن عالم آخرت میں یہی باغ کھلے طور پر محسوس ہوں گے۔خدا کی پاک تعلیم ہمیں یہی بتلاتی ہے کہ سچا اور پاک اور مستحکم اور کامل ایمان جو خدا اور اس کی ذات اور اس کی صفات اور اس کے ارادوں کے متعلق ہو وہ بہشت خوش نما اور بارور درخت ہے اور اعمال صالحہ اس بہشت کی نہریں ہیں۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 390) باقی جہاں تک آپ کے سوال کے اس حصہ کا تعلق ہے کہ اُخروی زندگی میں صرف مردوں سے انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے عورتوں سے ایسا کوئی وعدہ نہیں۔یہ سوال بھی اسلامی تعلیمات سے لاعلمی کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے کیونکہ قرآن وحدیث میں جگہ جگہ جہاں نیک اور صالح مر دوں کو ان اُخروی انعامات کا وارث قرار دیا گیا ہے وہاں نیک اور صالحہ خواتین کو بھی ان انعامات کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ فرمایا: وَ مَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا - (النساء:125) یعنی اور جو لوگ خواہ مرد ہوں یا عورتیں مومن ہونے کی حالت میں نیک کام کریں گے تو وہ جنت میں داخل ہوں گے۔اور ان پر کھجور کی گٹھلی کے سوراخ کے برابر (بھی) ظلم نہیں کیا جائے گا۔557