بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 499 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 499

راہ میں دُکھ دیئے گئے اور انہوں نے قتال کیا اور وہ قتل کئے گئے ، میں ضرور اُن سے اُن کی بدیاں دُور کر دوں گا اور ضرور انہیں ایسی جنتوں میں داخل کروں گا جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔(یہ) اللہ کی جناب سے ثواب کے طور پر (ہے) اور اللہ ہی کے پاس بہترین ثواب ہے۔جہاں تک مرد اور عورت کی گواہی کا تعلق ہے تو ایسے معاملات جن کا مر دوں سے تعلق ہے اور عورتوں سے براہِ راست تعلق نہیں ان میں اگر گواہی کے لئے مقررہ مرد میشر نہ ہوں تو ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کو اس لئے رکھا گیا ہے کہ چونکہ ان معاملات کا عورتوں سے براہِ راست تعلق نہیں لہذا اگر گواہی دینے والی عورت اپنی گواہی بھول جائے تو دوسری عورت اسے یاد دلا دے۔گویا اس میں بھی گواہی ایک عورت کی ہی ہے، صرف اس کے ایسے معاملات سے تعلق نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بھول جانے کے اندیشہ کے پیش نظر احتیاطاً دوسری عورت اس کی مدد کے لئے اور اسے بات یاد کرانے کے لئے رکھ دی گئی ہے۔قرآن کریم کا منطوق بھی اسی مفہوم کی تائید فرمارہا ہے۔چنانچہ فرمایا: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِنِّي أَجَلٍ مُّسَمًّي وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيْدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَ امْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلُّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكَّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرِي - (سورة البقرة: 283) ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم ایک معین مدت تک کے لئے قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔۔۔اور اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ ٹھہرالیا کرو۔اور اگر دو مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عور تیں (ایسے) گواہوں میں سے جن پر تم راضی ہو۔( یہ ) اس لئے (ہے) کہ ان دو عورتوں میں سے اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد کروا دے۔اور جہاں تک عورتوں سے براہ راست متعلقہ معاملات کا تعلق ہے تو حدیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے صرف ایک عورت کی گواہی پر کہ اس نے اس شادی شدہ جوڑے میں سے لڑ کے 499