بنیادی مسائل کے جوابات — Page 491
ہے۔ی جماعت کے لوگ بغیر ایسی ضرورت کے جو کہ مضطر کرتی ہے وہ میرے فوٹو کو عام طور پر شائع کرنا اپنا کسب اور پیشہ بنالیں۔کیونکہ اسی طرح رفتہ رفتہ بدعات پیدا ہو جاتی ہیں اور شرک تک پہنچتی ہیں اس لئے میں اپنی جماعت کو اس جگہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں تک اُن کے لئے ممکن ہو ایسے کاموں سے دست کش رہیں۔بعض صاحبوں کے میں نے کارڈ دیکھے ہیں اور ان کی پشت کے کنارہ پر اپنی تصویر دیکھی۔میں ایسی اشاعت کا سخت مخالف ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی ہماری جماعت میں سے ایسے کام کا مرتکب ہو۔ایک صحیح اور مفید غرض کے لئے کام کرنا اور امر ہے اور ہندوؤں کی طرح جو اپنے بزرگوں کی تصویریں جابجا درو دیوار پر نصب کرتے ہیں یہ اور بات ہے۔ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے لغو کام منجر بشیر ک ہو جاتے ہیں اور بڑی بڑی خرابیاں ان سے پیدا ہوتی ہیں۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 367) پس بنگلہ دیش میں بنائے جانے والے یہ مجسمے اگر کسی نیک مقصد کے لئے بنائے جا رہے ہیں جس سے علمی یا روحانی ترقی مقصود ہے تو پھر ان کے بنانے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر صرف نمود و نمائش اور دکھاوے کے لئے بنائے جا رہے ہیں تو غلط اور ناجائز کام ہے۔(قسط نمبر 29، الفضل انٹر نیشنل 25 فروری 2022ء صفحہ 10) 491