بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 476 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 476

پیدا ہو جاتا تھا تو وہ اُتم الولد کے طور پر آزاد ہو جاتی تھی۔دوسرا نکتہ نظر جس کے مطابق مسلمانوں پر حملہ کرنے والے دشمن کے لشکر میں شامل ایسی عورتیں جب اُس زمانہ کے رواج کے مطابق مسلمانوں کے قبضہ میں بطور لونڈی کے آتی تھیں تو ان سے ازدواجی تعلقات کے لئے رسما کسی نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی تھی ، بھی غلط نہیں ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بعض اور مواقع پر ایسی لونڈیوں کے بارہ میں جواب دیتے ہوئے اس موقف کو بھی بیان فرمایا ہے۔اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی بعض مجالس عرفان میں اور درس القرآن میں لونڈیوں کے مسئلہ کی تفسیر کرتے ہوئے اسی موقف کو بیان فرمایا ہے کہ ان لونڈیوں سے ازدواجی تعلق استوار کرنے کے لئے رسماً کسی نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔یہاں پر میں اس امر کو بھی بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم کے ایسے امور کی تفسیر جن کا از منہ ماضی سے تعلق ہو ، ان میں خلفاء کی آراء کا مختلف ہونا کوئی قابل اعتراض بات نہیں بلکہ یہ ہر خلیفہ کا اپنا اپنا فہم قرآن ہے اور خلفاء کا آپس میں ایسا اختلاف جائز ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ میرا موقف اس معاملہ پر یہی ہے کہ دشمن کی ایسی عورتوں سے ازدواجی تعلق کے لئے نکاح کی ضرورت ہوتی تھی اور میرے اس دور میں یہی جماعتی موقف متصور ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ آنے والا خلیفہ میرے اس موقف سے اختلاف کرے۔اگر ایسا۔ہوتا ہے تو اُس وقت وہی جماعتی موقف متصور ہو گا جو اُس وقت کے خلیفہ کا ہو گا۔علاوہ ازیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ اس زمانہ میں کہیں کوئی ایسی جنگ نہیں ہو رہی جو اسلام کو مٹانے کے لئے لڑی جارہی ہو اور اس میں مسلمان عورتوں سے ایسا سلوک کیا جا رہا ہو کہ انہیں لونڈیاں بنایا جارہا ہو اس لئے اب اس زمانہ میں مسلمانوں کے لئے بھی ایسا کرنانا جائز اور حرام ہے۔آپ نے اپنے خط میں دوسری شکایت یہ لکھی ہے کہ لجنہ اماء اللہ کی علمی ریلی کے موقع پر ایک دستاویزی فلم کے شروع میں ایک ڈیڑھ منٹ کا میوزک چلایا گیا۔جیسا کہ آپ نے تحریر کیا ہے کہ یہ ایک دستاویزی فلم تھی۔چونکہ یہ دستاویزی فلم تھی جو ہم 476