بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 475 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 475

لونڈی سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لونڈیوں کے بارہ میں تفسیر کبیر میں بیان حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا موقف تحریر کر کے اس مسئلہ پر مزید روشنی ڈالنے کی درخواست کی نیز لجنہ اماءاللہ پاکستان کی علمی ریلی کے موقعہ پر دکھائی جانے والی ایک دستاویزی فلم میں ایک ڈیڑھ منٹ تک میوزک بجنے کی شکایت بھی کی۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان امور کا اپنے مکتوب مؤرخہ 21 فروری 2018ء درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: لونڈیوں سے نکاح کی بابت آپ کا موقف تفسیر کبیر میں بیان حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیان فرمودہ تفسیر کے مطابق بالکل درست ہے۔اور یہی موقف حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کا بھی تھا کہ لونڈیوں سے نکاح ضروری ہے۔قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں میرا بھی یہی موقف ہے کہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں جبکہ دشمن اسلام مسلمانوں کو طرح طرح کے ظلموں کا نشانہ بناتے تھے اور اگر کسی غریب مظلوم مسلمان کی عورت ان کے ہاتھ آجاتی تو وہ اسے لونڈی کے طور پر اپنی عورتوں میں داخل کر لیتے تھے۔چنانچہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا کی قرآنی تعلیم کے مطابق ایسی عورتیں جو اسلام پر حملہ کرنے والے لشکر کے ساتھ ان کی مدد کے لئے آتی تھیں اور اُس زمانہ کے رواج کے مطابق جنگ میں بطور لونڈی کے قید کر لی جاتی تھیں۔اور پھر دشمن کی یہ عورتیں جب تاوان کی ادائیگی یا مکاتبت کے طریق کو اختیار کر کے آزادی بھی حاصل نہیں کرتی تھیں تو ایسی عورتوں سے نکاح کے بعد ہی ازدواجی تعلقات قائم ہو سکتے تھے۔لیکن اس نکاح کے لئے اس لونڈی کی رضامندی ضروری نہیں ہوتی تھی۔اسی طرح ایسی لونڈی سے نکاح کے نتیجہ میں مرد کے لئے چار شادیوں تک کی اجازت پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا یعنی ایک مرد چار شادیوں کے بعد بھی مذکورہ قسم کی لونڈی سے نکاح کر سکتا تھا۔لیکن اگر اس لونڈی کے ہاں بچہ 475