بنیادی مسائل کے جوابات — Page 454
قوم لُوط سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ کیا مسلمان یقین رکھتے ہیں کہ قوم لوط کے دو شہروں سدوم اور عمورہ کے لوگوں کو ان کے گناہوں زنا اور ہم جنس پرستی وغیرہ کی پاداش میں جلا دیا گیا تھا اور کیا یہ بات قرآن کریم سے ثابت ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 26 اپریل 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل ارشادات فرمائے: جواب: قرآن نے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ حضرت لوط کی قوم کو جلایا گیا تھا بلکہ یہ بائبل کا بیان ہے۔چنانچہ بائبل میں لکھا ہے کہ: " تب خداوند نے اپنی طرف سے سدوم اور عمورہ پر آسمان سے جلتی ہوئی گندھک برسائی۔اس طرح اس نے ان شہروں کو اور سارے میدان کو ، ان شہروں کے باشندوں اور زمین کی ساری نباتات سمیت غارت کر دیا۔لیکن لوط کی بیوی نے پیچے مڑ کر دیکھا اور وہ نمک کاستون بن گئی۔“ پیدائش باب 19 آیت 24 تا 27) اسی طرح لکھا ہے کہ : ” اور یہ بھی دیکھیں گے کہ سارا ملک گویا گندھک اور نمک بنا پڑا ہے اور ایسا جل گیا ہے کہ اس میں نہ تو کچھ بویا جاتا نہ پیدا ہو تا اور نہ کسی قسم کی گھاس اُگتی ہے اور وہ سدوم اور عمورہ اور آدمہ اور ضبو ٹیم کی طرح اُجڑ گیا جن کو خُداوند نے اپنے غضب اور قہر میں تباہ کر ڈالا۔“ (استثناء باب 29 آیت 23) گویا بائبل کے بیان کے مطابق ان لوگوں کو جلایا اور گندھک اور نمک بنا دیا گیا تھا۔جبکہ اس کے مقابلہ پر قرآن کریم کے بیان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کے جرائم جن میں انبیاء کو مختلف طریقوں سے تنگ کرنا، انہیں بُرا بھلا کہنا، ان کا انکار کرنا، انہیں ان کے وطنوں سے نکال دینے کی 454