بنیادی مسائل کے جوابات — Page 448
3۔نماز میں سورۃ کی تلاوت شروع کرنے سے قبل بسم اللہ بلند آواز میں پڑھنا یا آہستہ پڑھنا ہر دو طریق درست اور رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں۔چنانچہ حضرت انس بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ا ، حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان سب کے پیچھے نماز پڑھی ہے لیکن ان میں سے کسی ایک کو بھی میں نے بسم اللہ بالجہر پڑھتے نہیں سنا۔(صحیح مسلم كتاب الصلاة باب حجة من قال لا يجهر بالبسملة) نعیم بن المجر روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرۃ" کی امامت میں نماز پڑھی، انہوں نے بسم اللہ اونچی آواز میں تلاوت کی پھر سورۃ فاتحہ پڑھی۔پھر جب غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ پر پہنچے تو انہوں نے آمین کہی تو لوگوں نے بھی آمین کہی۔جب آپ سجدہ میں جاتے تو اللهُ أَكْبَر کہتے اور جب دو رکعت پڑھ کر اٹھتے تو اللهُ أَكْبَرُ کہتے۔پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو کہا مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں نماز کے معاملہ میں تم میں سے سب زیادہ آنحضرت ا کی نماز سے مشابہ ہوں۔(یعنی میری نماز حضور م کی نماز سے مشابہ ہے ) ( سنن نسائي كتاب الافتتاح باب قرأة بسم الله الرحمن الرحيم) حضرت ابو ہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ حضور ام بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جہر اپڑھا کرتے تھے۔(المستدرك للحاكم كتاب الامامة وصلاة الجماعة باب التامين) حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بسْمِ اللہ جہراً اور آہستہ پڑھنا ہر دو طرح جائز ہے۔ہمارے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ( اللهم اغفره وارحمه) جو شیلی طبیعت رکھتے تھے۔بِسمِ اللہ جہر آ پڑھا کرتے تھے۔حضرت مرزا صاحب جہر اُنہ جہراًنہ پڑھتے تھے۔ایسا ہی میں بھی آہستہ پڑھتا ہوں۔صحابہ میں ہر دو قسم کے گروہ ہیں۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کسی طرح کوئی پڑھے اس پر جھگڑا نہ کرو۔ایسا ہی آمین کا معاملہ ہے ہر دو طرح جائز ہے۔بعض جگہ یہود اور عیسائیوں کو مسلمانوں کا آمین پڑھنا بُرا لگتا تھا تو صحابہ خوب اونچی پڑھتے تھے۔مجھے ہر دو طرح مزا آتا ہے۔کوئی اونچا پڑھے یا آہستہ 448