بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 407 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 407

کی یقیناً بھلائی ہی پیش نظر رکھے گا، اس کے باوجود اگر کسی لڑکی کو شکایت پیدا ہو کہ اس کا یہ ولی اس کی مرضی کے خلاف اس کا رشتہ کرنا چاہتا ہے تو آنحضور الم کی سنت کے عین مطابق خلیفۃ المسیح روحانی باپ ہونے کی حیثیت سے اس عورت کے اس جسمانی ولی کی ولایت کو منسوخ کر کے اپنی نمائندگی میں اس عورت کا وکیل مقرر کر کے اس عورت کی مرضی کے مطابق اس کا نکاح کروانے کا حق رکھتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں اسی پر عمل ہوتا ہے اور متعدد احمدی بچیوں نے خلیفۃ المسیح کے توسط سے اپنے اس حق کو حاصل کیا ہے۔ایجاب و قبول کی مجلس چونکہ مردوں کی مجلس ہوتی ہے اور اسلام نے بہت سی حکمتوں کے پیش نظر غیر محرم مردوں اور عورتوں کے بر ملا ملنے جلنے کو پسند نہیں کیا۔لہذا اسلام نے عورت کے وقار اور عزت کو مد نظر رکھتے ہوئے خود عورت کی بجائے اس کے ولی کو اس میں ایجاب و قبول کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔لیکن اس سے پہلے نکاح کے تمام تر معاملات طے کرنے میں عورت کی مرضی اور رضامندی کو پوری طرح مقدم رکھا ہے۔چنانچہ آنحضور ا کے عہد مبارک میں حضور الم نے جب ایک صحابی کو رشتہ طے کرنے سے پہلے لڑکی کو ایک نظر دیکھنے کا ارشاد فرمایا، اور لڑکی کے باپ نے اپنی لڑکی غیر مرد کو دکھانے سے انکار کیا تو لڑ کی حضور ای تم کا ارشاد سن کر دروازہ سے باہر آگئی اور اس نے اس صحابی سے کہا کہ اگر حضور الم کا ارشاد ہے تو تم مجھے دیکھ سکتے ہو۔(سنن ابن ماجہ کتاب النکاح باب النَّظَرِ إِلَي الْمَرْأَةِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا) پس اسلام نے دیگر احکامات کی طرح نکاح اور شادی کے معاملات میں بھی جائز حدود میں رہتے ہوئے عورت کو پورا پورا اختیار دیا ہے۔ہاں مذہب بعض امور میں جہاں عورتوں پر کچھ پابندیاں لگاتا ہے وہاں اس نے مردوں پر بھی کچھ پابندیاں لگائی ہیں۔لیکن چونکہ شیطان ہر دور اور ہر زمانہ میں انسان کو بہکانے کے لئے طرح طرح کے راستے تلاش کرتا رہتا ہے اور یہ زمانہ جس میں دجالی قوتیں جو شیطان ہی کی نمائندہ ہیں پوری شدت کے ساتھ لوگوں کو خدا تعالیٰ کے راستہ سے بھٹکانے کے لئے اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں ، وہ مختلف طریقوں سے لوگوں اور خصوصاً نوجوان نسل کے ذہنوں میں طرح طرح کے شبہات پیدا کر کے انہیں مذہب سے متنفر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔407