بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 406 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 406

- دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو حکم و عدل بنا کر دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اس کا یہی مقصد ہے کہ اسلام کی حقیقی تعلیم جو زمین سے اٹھ کر ثریا پر جا چکی تھی، اسے آپ نے واپس لا کر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔اس لئے اپنی ریسرچ میں حضرت مسیح مود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کو مقدم رکھیں اور بار بار ان کا مطالعہ کریں۔اس کے بعد خلفائے احمدیت کی کتب جن کی بنیاد بھی دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہی عطاء فرمودہ علم الکلام پر ہے ان کا مطالعہ کریں تو انشاء اللہ آپ کے تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے۔باقی جہاں تک آپ کے سوالات کا تعلق ہے تو یہ بھی غلط فہمی اور اسلام کی تعلیمات سے پوری طرح واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے ہیں۔اسلامی تعلیم کی رو سے لڑکی کے نکاح کے لئے لڑکی کی رضامندی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور کوئی نکاح اس کی مرضی کے خلاف نہیں ہو سکتا۔اور یہ کہنا کہ اس کی خاموشی کو اس کی رضامندی سمجھا جاتا ہے ، یہ بھی غلط بات ہے۔نکاح کے لئے لڑکی سے نہ صرف اس کی باقاعدہ مرضی پوچھی جاتی ہے بلکہ نکاح فارم پر لڑکی کے دستخط ہے ہوتے ہیں اور اس کے دستخطوں کے ساتھ دو گواہوں کی اس بات پر گواہی ہونی ضروری کہ اس لڑکی نے ان دو گواہوں کے سامنے اپنی مرضی سے اس نکاح فارم پر دستخط کئے ہیں۔خاموشی کو رضامندی سمجھنا یہ اسلام کی تعلیم نہیں ہے، بلکہ علاقائی اور روائتی رسم و رواج ہیں۔ہاں یہ بات ٹھیک ہے کہ اسلام نے لڑکی کے نکاح کے لئے لڑکی کی مرضی کے علاوہ اس کے ولی جو اس کا بہت ہی قریبی رشتہ دار یعنی اس کا باپ یا بھائی وغیرہ ہوتا ہے، کی مرضی کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔اس حکم میں ایک بہت بڑی حکمت یہ ہے کہ چونکہ لڑکی بیاہ کر ایک خاندان سے دوسرے خاندان میں جارہی ہوتی ہے۔اس لئے اس کے نکاح میں اس کے ساتھ ولی کی شرط کو رکھ کر دوسرے خاندان پر واضح کیا گیا ہے کہ عورت جسے معاشرہ میں عموماً مردوں کی نسبت کمزور سمجھا جاتا ہے، اگر اس پر کسی قسم کا ظلم ہوا تو اس کے اپنے خاندان کے لوگ اس کے ساتھ ہیں جو تم لوگوں سے اس بارہ میں باز پرس کر سکتے ہیں۔لیکن ولی کی اس شرط میں بھی عورت کی مرضی کو اس طرح مقدم رکھا گیا کہ اگر چہ ولی عورت کا کوئی بہت قریبی رشتہ دار ہی ہوتا ہے جس کے متعلق یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ اس عورت 406