بنیادی مسائل کے جوابات — Page 394
سوال: دارالافتاء ربوہ کی طرف سے جاری ہونے والے فتاویٰ ملاحظہ فرمانے کے بعد ان میں سے بعض فتاوی دربارہ بیوہ کی عدت کے دوران اس کے بیٹے کی شادی، بیوہ / مطلقہ کے نکاح کے لئے ولی کی اجازت اور فتاویٰ میں دیئے جانے والے حوالہ جات کے طریق کی بابت حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 29 اکتوبر 2021ء میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: نظامت دار الافتاء کی طرف سے جاری کردہ فتاویٰ میں آپ نے ایک شخص کو اس کی والدہ کی عدت وفات کے دوران اس شخص کی شادی کے بارہ میں یہ فتویٰ دیا ہے۔” سوگ اور بیٹے کی شادی کی خوشی کی تقریب میں شرکت دو متضاد چیزیں ہیں۔آپ کی شادی کی تقریب کی صورت میں آپ کی والدہ اپنی عدت وفات سوگ کی حالت میں نہیں گزار سکتیں۔لہذا آپ کو اپنی شادی کا پروگرام والدہ کی عدت کے اختتام پر رکھنا چاہیے۔“ (فتوی زیر نمبر 11۔09۔2021/13) میرے نزدیک آپ کا یہ فتویٰ درست نہیں۔احادیث میں تو صرف بیوہ کے لئے چار ماہ دس دن عدت گزارنے کا حکم ہے۔لیکن آپ اپنے اس فتویٰ کے ذریعہ تو باقی لوگوں کو بھی پابند کر رہے ہیں کہ وہ بھی بیوہ کے ساتھ سوگ میں شامل ہوں اور اپنے ضروری کاموں کو عدت کے اختتام تک مؤخر کر دیں۔میری بیٹی کی شادی بھی اُس وقت ہوئی تھی جب میری والدہ عدت میں تھیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی وفات کے بعد اُمّی نے حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں رہنمائی کے لئے لکھا تو حضور نے شادی مقررہ تاریخ پر ہی کرنے کی ہدایت فرمائی اور فرمایا کہ عدت میں گھر سے باہر جانا منع ہے، گھر میں رہ کر سادگی کے ساتھ شادی کی تقریب میں شامل ہو نا منع نہیں۔اسی لئے ہم نے خواتین کا انتظام گھر کے بر آمدہ اور صحن میں کیا تھا اور اُمّی حضور کی ہدایت کے مطابق سادگی کے ساتھ گھر میں اس تقریب میں شامل بھی ہوئی تھیں۔پس اگر وہ لوگ اس شادی کے پروگرام کو اپنے طور پر ملتوی کر دیں تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔لیکن آپ کا انہیں شادی سے منع کرنے کا فتویٰ دینا درست نہیں۔2۔اسی طرح بیوہ / مطلقہ کے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے کے بارہ میں ایک استفتاء پر 394