بنیادی مسائل کے جوابات — Page 382
سوال: یمن سے ایک دوست نے بیوی کو دی جانے والی تین طلاقوں کی بابت حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں رہنمائی کی درخواست کی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 23 اگست 2021ء میں اس جس پر مسئلہ پر درج ذیل رہنمائی فرمائی۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اصل میں جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو بیوی کی کسی نا قابل برداشت اور فضول حرکت پر ناراض ہو کر یہ قدم اٹھاتا ہے۔بیوی سے خوش ہو کر تو کوئی انسان اپنی بیوی کو طلاق نہیں دیتا۔اس لئے ایسے غصہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق بھی مؤثر ہوتی ہے۔لیکن اگر کوئی انسان ایسے طیش میں تھا کہ اس پر جنون کی سی کیفیت طاری تھی اور اس نے نتائج سے بے پرواہ ہو کر جلد بازی میں اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر اس جنون کی کیفیت کے ختم ہونے پر نادم ہوا اور اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اسی قسم کی کیفیت کے بارہ میں قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ: لا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ ( البقرہ:226) یعنی اللہ تمہاری قسموں میں (سے) لغو ( قسموں) پر تم سے مؤاخذہ نہیں کرے گا۔ہاں جو (گناہ) تمہارے دلوں نے (بالا رادہ) کمایا اس پر تم سے مؤاخذہ کرے گا اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بُردبار ہے۔آپ کی بیان کردہ صورت سے تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ آپ مختلف وقتوں میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے چکے ہیں اور قرآن کریم نے ایک مسلمان کو جو تین طلاق کے استعمال کا حق دیا ہے، آپ اسے استعمال کر چکے ہیں اور اب آپ اپنی بیوی سے رجوع کرنے کا حق نہیں رکھتے۔جب تک کہ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ والی شرط پوری نہ ہو۔بہر حال ان امور کی روشنی میں آپ خود اپنا جائزہ لے کر اپنے متعلق فیصلہ کریں کہ آپ کی طلاق حقیقی رنگ میں تھی یا لغو طلاق کے زمرہ میں آتی ہے۔(قسط نمبر 42، الفضل انٹر نیشنل 4 نومبر 2022ء صفحہ 10) 382