بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 381 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 381

سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں اپنے خاوند کی بعض جسمانی امراض اور اس کے بیوی کے ساتھ سلوک کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ وہ اسے طلاق دینا چاہتا ہے کیونکہ خاوند کا کہنا ہے کہ بیوی خاوند کو اس کی خالہ کی بیٹی سے بات نہیں کرنے دیتی۔اسلام اس بارہ میں کیا کہتا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 22 جولائی 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: آپ کے خط سے یہ بات تو واضح ہوتی ہے کہ آپ کے خاوند ڈپریشن کی بیماری کا شکار ہیں۔اور جب ڈپریشن کے مریض پر اس مرض کا حملہ ہوتا ہے تو وہ ایسی حرکات کرتا ہے، جس کا آپ نے اپنے خط میں ذکر کیا ہے۔جس کا علاج دوا اور دعا ہے۔علاوہ ازیں آپ کے خط سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ آپ کو اپنے خاوند کے خلاف صرف اس وجہ سے کہ وہ اپنی خالہ کی بیٹی کے ساتھ باتیں کرتے ہیں، شکوک پیدا ہوتے ہیں۔پس اس مرض کی موجودگی میں جب آپ مریض کے خلاف شکوک کا بھی اظہار کریں گی تو لازما مریض کی طبیعت اور بھی بگڑے گی۔دو کزنز کے آپس میں باتیں کرنے میں تو شرعا کوئی حرج کی بات نہیں۔لیکن اگر وہ علیحدگی میں اٹھتے بیٹھتے ہیں اور الگ ملتے ہیں تو یہ غیر شرعی طریق ہے، جس کی اسلام میں ہر گز اجازت نہیں ہے۔(قسط نمبر 39، الفضل انٹر نیشنل 26 اگست 2022ء صفحہ 9) 381