بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 380 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 380

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے تین طلاقوں کے بعد اسی بیوی کے ساتھ خانہ آبادی کی بابت مسئلہ دریافت کیا۔جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 08 جون 2021ء میں اس مسئلہ کے بارہ میں درج ذیل اصولی ہدایات سے نوازا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اس معاملہ پر میں آپ ہی کی بیان کردہ تین طلاقوں کے اجراء کی صور تحال کی ظاہری حالت کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی تعلیم کی رو سے آپ کو جواب دے چکا ہوں۔تفسیر صغیر اور تفسیر کبیر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے سورة البقرة کی الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ (سورة البقرة: 230) والی آیت کی جو تفسیر بیان فرمائی ہے، اسی کی روشنی میں آپ کو یہ جواب دیا گیا ہے اور اس کے مطابق تو آپ اپنی اہلیہ کو طلاق بتہ دے چکے ہیں۔اس لئے اگر آپ کی سابقہ اہلیہ کے والدین اپنی بیٹی کے لئے نیا رشتہ تلاش کر رہے ہیں تو انہیں ایسا کرنے دیں۔کیونکہ آپ اپنی طلاقوں کی جو بھی توجیہہ کریں، ان کے نزدیک تو ان کی بیٹی کو طلاق بتہ ہو چکی ہے۔باقی اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے دیوانگی کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاقیں دی ہیں اور اس وقت آپ اپنے ہوش میں نہیں تھے تو پھر آپ اپنے لئے جو بہتر سمجھتے ہیں فیصلہ کر لیں لیکن غلطی کی صورت میں پھر اس کا گناہ آپ ہی کے سر ہو گا۔(قسط نمبر 37، الفضل انٹر نیشنل 08 جولائی 2022ء صفحہ 10) 380