بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 378 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 378

سوال: شرطی طلاق کی بابت محترم ناظم صاحب دارلافتاء ربوہ کی ایک رپورٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 25 ستمبر 2020ء میں درج ذیل ارشاد فرمایا: جواب: میرے نزدیک تو شرطی طلاق کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ارشادات بہت واضح ہیں اور ان حوالہ جات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایسی طلاق جس میں کوئی شرط رکھی گئی ہو، اس شرط کے پورا ہو جانے پر یہ طلاق مؤثر ہو جائے گی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے جن ارشادات کا ذکر فرمایا ہے، وہ قارئین کے استفادہ کے لئے ذیل میں درج کئے جا رہے ہیں۔(مرتب) ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام شرطی طلاق اس پر فرمایا کہ اگر شرط ہو کہ فلاں بات ہو تو طلاق ہے اور وہ بات ہو جائے تو پھر واقعی طلاق ہو جاتی ہے۔جیسے کوئی شخص کہے کہ اگر فلاں پھل کھاؤں تو طلاق ہے اور پھر وہ پھل کھالے تو طلاق ہو جاتی ہے۔“ (البدر نمبر 21 جلد 2 مؤرخہ 12 جون 1903ء صفحہ 162) حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی تحریر فرماتے ہیں: ”حضرت اقدس علیہ الصلوۃ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب ( محمد حسین بٹالوی۔ناقل ) کا یہ عقیدہ کسی طرح بھی صحیح اور درست نہیں ہے کہ حدیث قرآن شریف پر مقدم ہے۔ناظرین اسننے کے لائق یہ بات ہے کہ چونکہ قرآن شریف وحی متلو ہے اور تمام کلام مجید رسول اللہ لم کے زمانہ میں جمع ہو چکا تھا اور یہ کلام الہی تھا۔اور حدیث شریف کا ایسا انتظام نہیں تھا اور نہ یہ آنحضرت الیم کے زمانہ میں لکھی گئی تھیں۔اور وہ مرتبہ اور درجہ جو قرآن شریف کو حاصل ہے وہ حدیث کو نہیں 378