بنیادی مسائل کے جوابات — Page 377
ملتا ہے۔چنانچہ حضور انم نے ایک خاتون کو طلاق کی عدت کے دوران نہ صرف باہر جانے کی اجازت دی بلکہ اس پر پسندیدگی کا بھی اظہار فرمایا۔حضرت جابر بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں: طلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ فَأَتَتْ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَلِّي فَجُدِّي نَخْلَكِ فَإِنَّكِ عَلي أَنْ تَصَدِّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا۔(صحیح مسلم کتاب الطلاق یعنی میری خالہ کو طلاق ہوئی اور وہ اپنا کھجور کا باغ کاٹنے نکل کھڑی ہوئیں۔راستہ میں ایک شخص نے انہیں گھر سے باہر نکلنے پر ڈانٹا۔اس پر وہ حضور الم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔تو حضور الم نے انہیں فرمایا کہ تم بیشک اپنا کھجور کا باغ کاٹو۔شاید اس طرح تمہیں صدقہ دینے یا نیکی کرنے کا موقعہ مل جائے۔-6 خلع طلاق بائن کا حکم رکھتا ہے۔یعنی اس کے بعد رجوع کے لئے تجدید نکاح لازمی ہے، اس کے بغیر رجوع نہیں ہو سکتا۔(قسط نمبر 26، الفضل انٹر نیشنل 07 جنوری 2022ء صفحہ 11) 377