بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 376 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 376

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارہ میں فرماتے ہیں: ”اگر شرط ہو کہ فلاں بات ہو تو طلاق ہے اور وہ بات ہو جائے تو پھر واقعی طلاق ہو جاتی ہے۔جیسے کوئی شخص کہے کہ اگر فلاں پھل کھاؤں تو طلاق ہے اور پھر وہ پھل کھالے تو طلاق ہو جاتی ہے۔(البدر نمبر 21 جلد 2 مؤرخہ 12 جون 1903ء صفحہ 162) 4۔طلاق کے لئے پسندیدہ امر یہی ہے کہ خاوند ایسے طہر میں طلاق دے جس میں اس نے تعلق زوجیت قائم نہ کیا ہو۔لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا اور حمل کی حالت میں، حیض یا نفاس کے ایام میں طلاق دیتا ہے تو ایسی طلاق بھی مؤثر ہو گی۔کیونکہ اگر صرف ایسے طہر میں دی جانے والی طلاق ہی مؤثر ہوتی جس میں خاوند نے تعلق زوجیت قائم نہ کیا ہو تو پھر قرآن کریم میں حمل والی عورت کی عدت طلاق کا بیان عبث ٹھہرتا ہے۔پس قرآن کریم میں حمل والی عورتوں کی عدت طلاق کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ حمل کی حالت میں دی جانے والی طلاق بھی مؤثر قرار پاتی ہے۔اسی طرح حیض میں دی جانے والی طلاق کے بارہ میں کتب احادیث میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا یہ بیان مروی ہے کہ ان کی طرف سے بیوی کو اس کے ایام حیض میں دی جانے والی طلاق ، ایک طلاق شمار کی گئی تھی۔(صحیح مسلم کتاب الطلاق) 5۔ایسی طلاق جس کے بعد بیوی پر عدت کا حکم لاگو ہوتا ہے، اس عدت کے بارہ میں قرآنی حکم ہے کہ اس دوران نہ خاوند بیوی کو گھر سے نکالے اور نہ بیوی اپنا گھر چھوڑ کر جائے، بلکہ عدت کا عرصہ وہ خاوند کے گھر میں ہی گزارے۔چنانچہ فرمایا: لا تُخْرِجُهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ۔(الطلاق:2) یعنی ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔اسلام نے مطلقہ پر عدت کے دوران بناؤ سنگھار کرنے یا کام کاج اور دیگر ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے گھر سے باہر جانے کے حوالہ سے کوئی ایسی پابندی عائد نہیں کی جیسی پابندیاں اس نے بیوہ پر اس کی عدت کے دوران لگائی ہیں۔بلکہ احادیث میں مطلقہ کے لئے اس کے برعکس حکم 376