بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 375 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 375

مناسب طریق پر فارغ کر دو اور اپنے میں سے دو منصف گواہ مقرر کرو اور خدا کے لئے سچی گواہی دو۔تم میں سے جو کوئی اللہ اور یوم آخر پر ایمان لاتا ہے اس کو یہ نصیحت کی جاتی ہے۔اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی رستہ نکال دے گا۔فقہاء بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئی شخص بغیر گواہوں کے طلاق دیدے یار جوع کر لے تو اس سے اس کی طلاق یار جوع پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔2۔جہاں تک غصہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق کا معاملہ ہے تو جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو وہ بیوی کی کسی ناقابل برداشت اور فضول حرکت پر ناراض ہو کر یہ قدم اٹھاتا ہے۔بیوی سے خوش ہو کر تو کوئی انسان اسے طلاق نہیں دیتا۔اس لئے ایسے غصہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق بھی مؤثر ہو گی۔البتہ اگر کوئی انسان ایسے طیش میں ہو کہ اس پر جنون کی کیفیت طاری ہو اور اس نے نتائج پر غور کئے بغیر جلد بازی میں اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر اس جنون کی کیفیت کے ختم ہونے پر نادم ہوا اور اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اسی قسم کی کیفیت کے لئے قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ : لا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ (البقرة:226) یعنی اللہ تمہاری قسموں میں (سے) لغو (قسموں) پر تم سے مؤاخذہ نہیں کرے گا۔ہاں جو (گناہ) تمہارے دلوں نے (بالا رادہ) کمایا اس پر تم سے مؤاخذہ کرے گا اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بُردبار ہے۔3۔شر طی طلاق بھی مقررہ شرط کے پورا ہونے پر مؤثر ہو جاتی ہے۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر کے شاگر د اور آپ کے آزاد کردہ غلام نافع بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر وہ باہر نکلی تو اسے طلاق ہے۔اس پر حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے فتویٰ دیا کہ اگر اس کی بیوی باہر نکلے گی تو اسے طلاق ہو جائے گی اور اگر وہ نہ نکلی تو اس پر کچھ نہیں۔(صحيح بخاري كتاب الطلاق) 375