بنیادی مسائل کے جوابات — Page 336
خیال رہنا چاہیے کہ اپنی خواہش نہ ہو۔خواہش کے بر خلاف جو زیادہ ملتا ہے وہ شود میں داخل نہیں ہے۔“ 66 (البدر نمبر 10، جلد 2، مؤرخہ 27 مارچ 1903ء صفحہ 75) (ملفوظات، جلد چہارم، ایڈیشن 2023، صفحہ 313) پس اسلام نے جس سود سے منع فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی کو اس نیت کے ساتھ قرض دے کہ اسے اس قرض میں دی جانے والی رقم پر زائد رقم ملے۔لیکن اگر قرض لینے والا اپنی طرف سے کچھ زائد دے تو وہ سود میں شامل نہیں ہے۔علاوہ ازیں موجو د زمانہ میں بینکنگ سسٹم تقریباً ہر دنیاوی کاروبار کا لازمی جزو ہے اور دنیا کے اکثر بینکوں کے نظام میں کسی نہ کسی طرح سود کا عنصر موجود ہوتا ہے ، جو ان کاروباروں کا بھی حصہ بنتا ہے۔اسی لئے حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ کل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے۔اس لئے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔ان حالات میں اگر انسان بہت زیادہ وہم میں پڑا رہے تو اس کا زندگی گزار ناہی دُوبھر ہو جائے گا۔کیونکہ عام زندگی میں جو لباس ہم پہنتے ہیں، ان کپڑوں کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں بھی کہیں نہ کہیں سودی پیسہ لگا ہو گا۔جو بریڈ ہم کھاتے ہیں، اس کے کاروبار میں بھی کہیں نہ کہیں سودی پیسہ کی آمیزش ہو گی۔اگر انسان ان تمام دنیاوی ضرورتوں کو چھوڑ چھاڑ کر اپنے گھر میں ہی بیٹھنا چاہے جو بظاہر ناممکن ہے پھر بھی وہ مکان جس اینٹ، ریت اور سیمنٹ سے بنا ہے، ان چیزوں کو بنانے والی کمپنیوں کے کاروبار میں بھی کہیں نہ کہیں سودی کاروبار یا سود کے پیسہ کی ملونی ہو گی۔پس بہت زیادہ مین میخ نکال کر اور وہم میں پڑ کر اپنے لئے بلا وجہ مشکلات پیدا نہیں کرنی چاہئیں۔حدیث میں بھی آتا ہے ، حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں: أَنَّ قَوْمًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَنَا بِاللَّحْمِ لَا نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمُّوا اللَّهَ عَلَيْهِ وَكُلُوهُ - 336 (صحيح بخاري كتاب البيوع)