بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 280 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 280

خالق اور مخلوق سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے۔اگر ہم اچھے کام کریں گے تو جنت کا وعدہ ہے اور اگر بُرے کام کریں گے تو جہنم میں جانا پڑے گا۔اس میں اللہ تعالیٰ کا کیا فائدہ ہے ؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 04 فروری 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: بنیادی طور پر یہ سوال ہی درست نہیں ہے۔کیونکہ اسلام کی ہر گز یہ تعلیم نہیں کہ انسان جنت کی لالچ سے نیکیاں بجالائے یا جہنم کے خوف سے بُرائیوں سے بچے۔ایسا ایمان جو کسی لالچ یا کسی خوف سے ہو وہ کمزور ایمان ہوتا ہے۔مخلوق کا اپنے خالق سے ایسا مضبوط تعلق ہونا چاہیے جو بہشت کی طمع یا دوزخ کے خوف سے پاک ہو۔بلکہ اگر فرض کر لیا جائے کہ نہ بہشت ہے اور نہ دوزخ ہے تب بھی انسان اپنے رب کی عبادت میں ، اس کی محبت اور اطاعت میں ذرہ بھر بھی فرق نہ آنے دے۔اسی لئے قرآن وحدیث میں خالق اور مخلوق کے تعلق کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کو اختیار کر کے اس کا حقیقی عبد بنے اور اس کے ہر قول و فعل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول پیش نظر ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس مضمون کو کئی جگہوں پر بیان فرمایا ہے۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: ”ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اُس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اُس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 21) پس اللہ اور بندے کا تعلق ، عاشق اور معشوق والا تعلق ہے۔کوئی عاشق اپنے معشوق سے یہ نہیں کہتا کہ میں تجھ پر اس لئے عاشق ہوں کہ تو مجھے اتناروپیہ یا فلاں فلاں شے دیدے۔ہر گز نہیں۔280