بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 275 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 275

خاتم النبيين سوال: ایک دوست نے آنحضور الم کے ارشاد کہ ”میں اُس وقت بھی خاتم النبیین تھا جب حضرت آدم ابھی اپنی پیدائش کے بالکل ابتدائی مراحل میں تھے “ کی ایک تشریح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں پیش کر کے اس بارہ میں رہنمائی چاہی نیز اس مضمون کے حوالہ سے اس دوست نے دو حدیثوں کا حوالہ بھی حضور سے دریافت کیا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 10 مارچ 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل ارشادات فرمائے: جواب: آنحضور الم کے خاتم النبیین ہونے کے غیر معمولی اور بلند مرتبہ مقام کے حوالہ سے حضور الم کے ارشاد " إِنِّي عِنْدَ اللهِ مَكْتُوبُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِيْنَتِهِ (مشكوة المصابيح كتاب الفضائل باب فضائل سید المرسلین ) کہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اُس وقت سے خاتم النبیین لکھا ہوا ہوں جب آدم (علیہ السلام) ابھی اپنی گندھی ہوئی مٹی میں پڑے ہوئے تھے۔نیز حدیث قدسی لَوْ لاكَ لَمَا خَلَقْتُ الأفلاك (روح المعاني از علامه آلوسي جزو اول صفحه 70 تفسير سورة الفاتحه داراحياء التراث العربي بيروت ایڈیشن 1999ء) کہ اے محمد () اگر تو نہ ہو تا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا، کی تشریح میں آپ نے جو نکتہ بیان کیا ہے کہ ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھی حضور اہل علم کے مقام خاتم النبیین کے بعد آئے اور زمین و آسمان بھی اللہ تعالیٰ نے حضور الم کو اس مقام پر فائز کرنے کے بعد بنائے، ہے۔جس کا پرانے علماء نے بھی ذکر کیا ہے اور یہ جماعتی لٹریچر میں بھی بیان ہوا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ بانی دیوبند حضرت محمد قاسم نانوتوی کا ایک حوالہ کہ: ”اول معنی خاتم النبیین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کچھ دقت نہ ہو۔سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ الل علم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تأخر زمانی بالذات کچھ فضیلت نہیں۔پھر مقام مدح میں وَلَكِن رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ 275