بنیادی مسائل کے جوابات — Page 246
حضرت موسیٰ علیہ السلام سوال: تیونس سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ قرآن کریم اور بائبل سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بھی آنحضور الم کی طرح حجاز کے علاقہ مکہ اور مدینہ میں ہی بعثت ہوئی تھی۔اس بارہ میں حضور کا کیا ارشاد ہے؟ حضو انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 24 نومبر 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: آپ نے اپنے موقف کے حق میں قرآن کریم کی بعض آیات سے جو استدلال کرنے کی کوشش کی ہے وہ آپ کی ذوقی باتیں ہیں اور ان کا تاریخ سے اس طرح ثبوت نہیں ملتا۔نیز آپ نے بعض تاریخی واقعات کو آپس میں ملا جلا دیا ہے۔وادی کے لفظ سے آپ کو کنفیوژن پیدا ہوئی ہے اور آپ نے اس سے مراد صرف مکہ اور حدیبیہ کی وادی ہی لیا ہے اور سورۃ القصص میں مذکور من شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ میں بھی آپ کے نزدیک مکہ کی وادی ہی مراد ہے۔حالانکہ قرآن کریم میں یہ لفظ کئی اور مقامات کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔اور سورۃ القصص کی آیت مِن شَاطِي الْوَادِ الْأَيْمَنِ میں مذکور مقام کا تعلق حضرت موسیٰ کے اُس واقعہ سے ہے جب آپ اپنے سر سے کئے گئے معاہدہ کی تکمیل کے بعد اپنے اہل کے ساتھ مدین سے کسی دوسری جگہ تشریف لے جارہے تھے کہ راستہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے ہمکلام ہو کر آپ کو رسالت کے مقام پر فائز فرمایا اور آپ کو فرعون کی طرف مصر جانے کا حکم دیا۔پھر صلح حدیبیہ کے واقعہ سے آپ نے جو استدلال کیا ہے، وہ بھی درست نہیں کیونکہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر تو حضور الام مکہ میں داخل ہی نہیں ہوئے تھے۔بلکہ کفار مکہ سے ہونے والے معاہدہ کے مطابق حضور العلم حدیبیہ سے ہی واپس مدینہ آگئے تھے۔اور حسب معاہدہ اس سے اگلے سال آپ ایم عمرہ کے لئے مکہ تشریف لے گئے تھے۔ہاں یہ بات درست ہے کہ اس سفر میں فتح مکہ کی بنیاد پڑ گئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے بعد واپسی کے سفر میں حضور اتم کو 246