بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 209 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 209

انسانی علم اور سائنسی تحقیقات اللہ تعالیٰ کے لا محدود علم کے مقابلہ پر بہت ہی معمولی حیثیت رکھتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خود سائنسی تحقیقات بھی مختلف زمانوں میں بدلتی رہی ہیں اور اب بھی ان میں رد و بدل ہو تا رہتا ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: گورات اور دن ان اجرام فلکی کی تاثیرات کے ظہور کا نام ہیں۔لیکن ان کے علاوہ بھی سورج اور چاند اور ستاروں کے اثرات ہیں اور ان سے ایسی تاثیرات بھی دنیا پر پڑتی ہیں جو آنکھوں سے نظر آنے والی شعاعوں کے علاوہ دوسرے ذرائع سے انسان پر اثر انداز ہوتی ہیں۔جیسے برقی یا مقناطیسی اثرات۔اور ان کے سوا اور کئی قسم کی تاثیرات ہیں جو سائنس۔روز بروز دریافت کر رہی ہے۔اور کئی وہ شاید کبھی بھی دریافت نہ کر سکے۔،، ( تفسیر کبیر جلد چہار صفحہ 138) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی مختلف تصانیف میں قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں چاند، سورج، ستاروں اور سیاروں کی زمین اور اہل زمین پر تاثیرات کے مضامین کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔چنانچہ تحفہ گولڑویہ میں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ ستارے فقط زینت کے لئے نہیں ہیں جیسا عوام خیال کرتے ہیں بلکہ ان میں تاثیرات ہیں۔جیسا کہ آیت وَ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ و حفظا سے ، یعنی حفظ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔یعنی نظام دنیا کی محافظت میں ان ستاروں کو دخل ہے اُسی قسم کا دخل جیسا کہ انسانی صحت میں دوا اور غذا کو ہوتا ہے جس کو الوہیت کے اقتدار میں کچھ دخل نہیں بلکہ جبروت ایزدی کے آگے یہ تمام چیزیں بطور مردہ ہیں۔یہ چیزیں بجز اذن الہی کچھ نہیں کر سکتیں۔ان کی تاثیرات خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔پس واقعی اور صحیح امر یہی ہے کہ ستاروں میں تاثیرات ہیں جن کا زمین پر اثر ہوتا ہے۔لہذا اس انسان سے زیادہ تر کوئی دنیا میں جاہل نہیں کہ جو بنفشہ اور نیلو فر اور تربد اور سقمونیا اور خیار شنبر کی تاثیرات 209