بنیادی مسائل کے جوابات — Page 187
رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي ( بخاري كتاب بدء الخلق بَاب مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَي وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ) یعنی یقیناً میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔اور جو ایک مہربان ماں سے بھی بہت بڑھ کر اپنے بندوں سے محبت اور پیار کرتا ہے۔اس کے متعلق ہم کیسے یہ سوچ بھی سکتے ہیں کہ وہ انسانوں کو ان کی غلطیوں اور گناہوں کی پاداش میں ہمیشہ کے لئے جہنم کے عذاب میں مبتلا رکھے گا۔دوزخ تو ایک ہسپتال ہے جہاں بیماروں کا علاج کر کے ان کے شفا پاجانے کے بعد انہیں ڈسچارج کر دیا جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہنم کے متعلق اتم یعنی ماں کا لفظ بھی استعمال فرمایا ہے۔جیسا کہ فرمایا: فَامُّهُ هَاوِيَةٌ (القارعه: 10) یعنی اس کی ماں باو یہ ہو گی۔اور ماں کے پیٹ میں انسان ہمیشہ کے لئے نہیں رہتا۔بلکہ جب جنین مکمل ہو جاتا ہے تو وہاں سے دنیا میں آجاتا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”هَا دِیے کو آخر کہنے میں یہ مطلب ہے کہ جب تک تربیت یافتہ نہ ہو ماں سے تعلق رہتا ہے۔بعد تربیت پالینے کے ماں سے علیحدگی ہو جاتی ہے۔اس لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد طول مکث کے دوزخی دوزخ سے نکال دیئے جائیں گے۔“ ( حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 446) اسی طرح حدیث میں بھی آتا ہے کہ جہنم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس میں کوئی آدم زاد باقی نہیں رہے گا اور ہوا اس کے دروازے کھٹکھٹائے گی۔(کنز العمال جلد 14 حدیث نمبر 39506) پھر حضرت ابن مسعود روایت کرتے ہیں کہ حضور ا م نے دوزخ سے نکالے جانے والے آخری انسان کی حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا جو آدمی سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا وہ گرتا پڑتا اور گھسٹتا ہوا دوزخ سے اس حال میں نکلے گا کہ دوزخ کی آگ اسے جلا رہی ہو گی۔پھر جب دوزخ سے نکل جائے گا تو دوزخ کی طرف پلٹ کر دیکھے گا اور دوزخ سے مخاطب ہو کر کہے گا کہ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی، اور اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ 187