بنیادی مسائل کے جوابات — Page 169
تصنیف "الهام، عقل، علم اور سچائی“ میں فرماتے ہیں: اب ہم سائنسی تناظر میں از منہ قدیم کے قصے کہانیوں میں مذکور جن کی حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں۔۔۔جن کا لفظ کسی پوشیدہ، غیر مرئی، الگ تھلگ اور دُور کی چیز پر دلالت کرتا ہے۔اس میں گہرے اور گھنے سائے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے جَنَّةٌ کے لفظ کو (جو اسی مادہ سے نکلا ہے ) جنت کے لئے استعمال کیا ہے جو ایسے گھنے باغات پر مشتمل ہے جن کے سائے بہت ہی گہرے ہیں۔جن کے لفظ کا اطلاق سانیوں پر بھی ہوتا ہے جو فطرتاً پوشیدہ اور چھپ کر رہنا پسند کرتے ہیں جس کے لئے وہ الگ تھلگ بلوں اور چٹانوں میں موجو د سوراخوں کا انتخاب کرتے ہیں۔جن کا لفظ با پردہ عورتوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور ایسے سرداروں اور بڑے لوگوں کے لئے بھی جو عوام سے دُور رہنا پسند کرتے ہیں۔اسی طرح دور دراز اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں بسنے والے لوگوں پر بھی جن کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔المختصر عام انسانی نگاہ سے اوجھل اور پوشیدہ ہر چیز پر جن کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔جن کے لفظ کا مذکورہ بالا مفہوم آنحضرت ام کی اس حدیث کے عین مطابق ہے جس میں آپ اسلم نے لوگوں کو خشک گوبر اور ہڈیوں سے استنجا کرنے سے اس لئے منع فرمایا ہے کہ یہ جنوں کی خوراک ہے۔جس طرح آج کل صفائی کے لئے ٹائلٹ پیپر استعمال کئے جاتے ہیں اسی طرح پرانے زمانہ میں لوگ صفائی کے لئے مٹی کے خشک ڈھیلے، پتھر یا قریب پڑی کوئی اور خشک چیز استعمال کیا کرتے تھے۔پس ہم بآسانی یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ آنحضرت ام نے اس حدیث میں جس جن کا ذکر فرمایا ہے اس سے مراد کوئی غیر مرئی مخلوق ہی ہے جس کا گزارہ ہڈیوں اور فضلہ وغیرہ پر ہوتا ہے۔یاد رہے کہ اس وقت دنیا میں بیکٹیریا اور وائرس کا کوئی تصور موجود نہیں تھا اور کوئی شخص اس قسم کی غیر مرئی اور 169