بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 168 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 168

باتیں نظر آجاتی ہیں۔انہوں نے کشف سے بعض امور دیکھے اور چونکہ عوام میں جنات کا عقیدہ تھا اور قرآن کریم میں بھی لفظ جن کا استعمال ہوا ہے انہوں نے ان مثالی وجو دوں کو اصلی وجود سمجھ لیا۔میرا اپنا ذاتی تجربہ اس بارہ میں یہ ہے کہ کئی مختلف وقتوں میں لوگوں نے مجھے ایسے خطوط لکھے ہیں کہ جنات ان کے گھر میں آتے اور فساد کرتے ہیں۔میں نے ہمیشہ اپنے خرچ پر اس مکان کا تجربہ کرنا چاہا لیکن ہمیشہ ہی یا تو یہ جواب ملا کہ اب ان کی آمد بند ہو گئی ہے۔یا یہ کہ آپ کے خط آنے یا آپ کا آدمی آنے کی برکت سے وہ بھاگ گئے ہیں۔میرا اپنا خیال ہے کہ جو کچھ ان لوگوں نے دیکھا ایک اعصابی کرشمہ تھا۔میرے خط یا پیغامبر سے چونکہ انہیں تسلی ہوئی وہ حالت بدل گئی۔اگر اس تفسیر کے پڑھنے والوں میں سے کسی صاحب کو اس مخلوق کا تجربہ ہو۔اور وہ مجھے لکھیں تو میں اپنے خرچ پر اب بھی تجربہ کرانے تو کو تیار ہوں۔ورنہ جو کچھ میں متعدد قرآنی دلائل سے سمجھا ہوں یہی ہے کہ عوام الناس میں جو جن مشہور ہیں اور جن کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ انسانوں سے تعلق رکھتے اور ان کو چیزیں لا کر دیتے ہیں۔یہ محض خیال اور وہم ہے۔یا مداریوں کے تماشے ہیں جن کے اندرونی بھید کے نہ جاننے کی وجہ سے لوگوں نے ان کو جنات کی طرف منسوب کر دیا ہے۔اس علم کا بھی میں نے مطالعہ کیا ہے۔اور بہت سی باتیں ان ہتھکنڈے کرنے والوں کی جانتا ہوں۔“ 66 ( تفسیر کبیر جلد چہارم ، سورت الحجر زیر آیت 26، صفحہ 70،69) علاوہ ازیں حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے اپنی مجالس عرفان اور مجالس سوال و جواب میں جنوں کے متعلق ہونے والے سوالات کے جواب میں ہمیشہ یہی موقف بیان فرمایا کہ قرآن و حدیث میں ایسے جنوں کا کہیں ذکر نہیں ملتا جو مولویوں کے دماغوں کے جن ہیں اور جو ان کے کہنے پر راتوں رات کسی شخص کو اٹھا کر ان کے سامنے حاضر کر دیں۔چنانچہ حضور اپنی معرکۃ الآراء 168