بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 132

تقدير سوال: اسی Virtual ملاقات مؤرخہ 29 نومبر 2020ء میں ایک اور طفل نے حضورانور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ جب ہماری تقدیر لکھ دیتا ہے تو پھر ہم دعا کیوں کرتے ہیں، ہمیں دعا کی کیا ضرورت ہوتی ہے ؟ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جواب: بعض تقدیریں ایسی ہیں جو ٹل نہیں سکتیں اور بعض تقدیریں ایسی ہیں جو ٹل جاتی ہیں۔اس لئے ہم دعا کرتے ہیں۔مثلاً موت ہے۔ہر ایک نے مرنا ہے، یہ تو ثابت شدہ ہے۔کوئی انسان ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتا۔یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔لیکن ایک شخص بیمار ہوتا ہے۔اور ایسی حالت میں وہ پہنچ جاتا ہے جہاں ڈاکٹر جواب دیدیتے ہیں کہ مرنے کے قریب پہنچ گیا۔لیکن ہم دعا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دعا قبول کر لیتا ہے اور اس کو اس موت کے منہ سے واپس لے آتا ہے ، زندہ کر دیتا ہے۔تو یہ اللہ تعالیٰ کی ایسی تقدیر ہے جو دعا سے مل گئی۔Ultimately اس نے ایک لمبی عمر ستر سال ، اسی سال نوے سال پاکے مرنا ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے: گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے سوسال بھی کوئی زندہ رہے گا آخر کو مرنا ہی ہے۔لیکن ایک ایسی عمر ہے مثلاً جوانی میں اگر کسی کی اس وقت ایسی مرنے کی حالت ہو جاتی ہے اور ہم دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو ٹال دیتا اور اس کو عمر لمبی دیدیتا ہے۔اور کئی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔لوگ مجھے بھی دعا کے لئے لکھتے ہیں۔میں ان کو جواب دیتا ہوں۔اور اللہ کے فضل سے وہ دعا قبول بھی ہو جاتی ہے۔لوگ بھی اپنی دعا کے واقعات لکھتے ہیں۔انہوں نے بھی دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے دعا سے وہ نقصان جو ان کو ہونا تھا اس سے وہ ٹال دیا۔تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہی یہ کام ہو رہا ہے۔لیکن اگر ہم دعا نہیں کریں گے ، کوشش نہیں کریں گے تو پھر جو اس تقدیر کا نتیجہ نکلنا ہے وہ نکلے گا۔اس لئے ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جو تقدیریں ملنے والی ہیں وہ ٹل جائیں اور ان کے بہتر نتائج پیدا ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ نے دو چیزیں رکھی ہیں۔ایک فائدہ والی، ایک نقصان والی۔اب اگر ہم اللہ تعالیٰ کی بات ما 132