بنیادی مسائل کے جوابات — Page 114
ہو گا۔لیکن اگر کوئی عورت ایسی شرط نہ لکھاوے اور حکم شرع پر راضی مثل ہووے تو اس حالت میں دوسرے کا دخل دینا بیجا ہو گا اور اس جگہ ہے صادق آئے گی کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ خدا نے تعدد ازواج فرض واجب نہیں کیا ہے۔خدا کے حکم کی رُو سے صرف جائز ہے۔پس اگر کوئی مرد اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اس جائز حکم سے فائدہ اُٹھانا چاہے جو خدا کے جاری کر دہ قانون کی رُو سے ہے اور اس کی پہلی بیوی اس پر راضی نہ ہو تو اس بیوی کے لئے یہ راہ کشادہ ہے کہ وہ طلاق لے لے اور اس غم سے نجات پاوے اور اگر دوسری عورت جس سے نکاح کرنے کا ارادہ ہے اس نکاح پر راضی نہ ہو اس کے لئے بھی یہ سہل طریق ہے کہ ایسی درخواست کرنے والے کو انکاری جواب دیدے۔کسی پر جبر تو نہیں لیکن اگر وہ دونوں عور تیں اس نکاح پر راضی ہو جاویں تو اس صورت میں کسی آریہ کو خواہ نخواہ دخل دینے اور اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 246) (قسط نمبر 31، الفضل انٹر نیشنل 108 اپریل 2022ء صفحہ 11) 114