بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 101 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 101

دمشق میں لگایا۔اور یہ پولوسی تثلیث دمشق سے ہی شروع ہوئی۔“ (چشمه مسیحی، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 377،376) پس حضور علیہ السلام کے ان الفاظ کہ ”جیسا کہ یہودیوں کی تاریخ میں لکھا ہے“ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں پر حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات سے مراد عیسائی عقیدہ کے مطابق آپ کی وفات ہے جس وقت آپ کو صلیب پر لٹکایا گیا۔لیکن ہمارے عقیدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے اس برگزیدہ نبی کو بائیبل میں بیان لعنتی موت سے بچانے کے لئے صلیب سے نجات بخشی۔جس کے بعد آپ اپنے باقی دس قبائل کی تلاش میں کشمیر کی طرف ہجرت فرما گئے۔جہاں یوز آسف نبی کے نام سے آپ نے اپنے لوگوں کی تربیت کر کے ایک سو میں سال کی عمر میں وفات پائی اور وہیں پر محلہ خان یار کشمیر ہندوستان میں دفن ہوئے جہاں آج بھی آپ کی قبر موجود ہے۔جہاں تک پولوس کا معاملہ ہے تو پولوس کے معاملہ کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی ایک اور تصنیف کشتی نوح میں تحریر فرماتے ہیں: " جس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ لکھا گیا اُس وقت وہ پولوس بھی مکفرین کی جماعت میں داخل تھا جس نے بعد میں اپنے تئیں رسول مسیح کے لفظ سے مشہور کیا۔یہ شخص حضرت مسیح کی زندگی میں آپ کا سخت دشمن تھا جس قدر حضرت مسیح کے نام پر الجھیلیں لکھی گئیں ہیں ان میں سے ایک میں بھی یہ پیشگوئی نہیں ہے کہ میرے بعد پولوس توبہ کر کے رسول بن جائے گا۔اس شخص کے گزشتہ چال چلن کی نسبت لکھنا ہمیں کچھ ضرورت نہیں کہ عیسائی خوب جانتے ہیں افسوس ہے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے حضرت مسیح کو جب تک وہ اس ملک میں رہے بہت دکھ دیا تھا اور جب وہ صلیب سے نجات پا کر کشمیر کی طرف چلے آئے تو اس نے ایک جھوٹی خواب کے ذریعہ سے حواریوں میں اپنے تئیں داخل کیا اور تثلیث کا مسئلہ گھڑا اور عیسائیوں پر سور کو جو توریت کے رُو سے ابدی حرام تھا حلال کر دیا اور شراب کو بہت وسعت دے دی اور انجیلی عقیدہ میں تثلیث کو داخل کیا تا ان تمام بدعتوں سے 101