بنیادی مسائل کے جوابات — Page 97
میں پھیلانے میں کوشاں ہے۔بُرائی اور اچھائی کے بارہ میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ بُرائی اور اچھائی کا معیار کیا ہے ؟ ہو سکتا ہے کہ ایک بات آپ کے نزدیک بُری ہو لیکن کسی دوسرے کے نزدیک اچھی ہو۔اور دنیا میں اس کی کئی مثالیں مل سکتی ہیں۔لیکن مذہب کی دنیا میں جن باتوں کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا وہ اچھائی ہے اور جن باتوں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا وہ بُرائی ہے، جسے اسلامی اصطلاح میں اوامر و نواہی کہا جاتا ہے۔اور ایک مسلمان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان اوامر و نواہی پر کار بند ہو۔یعنی جن باتوں کے کرنے کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے حکم دیا ان کو بجالائے اور جن باتوں سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ان کو ترک کر دے۔اس کے اسی قسم کے اعمال کے مطابق اس سے معاملہ کیا جائے گا۔جہاں تک دوسرے مذاہب کے لوگوں کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں سے جس نے بھی کوئی نیک عمل کیا ہے اللہ تعالیٰ اسے ہر گز ضائع نہیں کرے گا۔چنانچہ ایک فاحشہ عورت کے پیاسے کتے کو پانی پلانے پر اللہ تعالیٰ نے اس عورت کو معاف کر دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ رحم پر مبنی صفات کا بھی مالک ہے اور جب چاہے وہ انہیں استعمال کرنے پر قادر ہے۔باقی آپ کے کوڑا اٹھانے پر جنہوں نے اعتراض کیا ہے، ان کی بات غلط ہے۔جماعت احمد یہ میں تو ایسے کام کے لئے وقار عمل کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔یعنی ایسا کام جس کے کرنے سے انسان کا وقار اور عزت بڑھتی ہے۔اپنے علاقہ اور ماحول کو صاف رکھنا تو ایک بہت اچھی عادت ہے جس کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول الم نے بھی حکم دیا ہے۔میں نے خود بھی کئی دفعہ وقار عمل کے تحت کوڑا کرکٹ اٹھایا ہے اور گندی نالیاں صاف کی ہیں۔صفائی کرنے اور کوڑا کرکٹ اٹھانے سے ہر گز عزت نہیں جاتی۔عزت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اس کے حکموں کی خلاف ورزی کرنے سے عزت جاتی ہے۔لہذا ہمیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے۔(قسط نمبر 23، الفضل انٹر نیشنل 19 نومبر 2021ء صفحہ 12) 97