بنیادی مسائل کے جوابات — Page 95
تبركات سوال: ایک نوجوان نے احمدیت کے بارہ میں نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے لباس اور آپ کے زیر استعمال بعض اشیاء کے بارہ میں متفرق استفسارات حضور انور کی خدمت اقدس میں تحریر کئے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 23 مارچ 2020ء میں ان سوالات کے درج ذیل جوابات ارشاد فرمائے۔حضور نے فرمایا: جواب: احادیث میں مختلف صحابہ سے مروی ہے کہ حضور اللهم عمامہ کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت جابر بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ام فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا۔اسی طرح حضرت عمرو بن حریث روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ العلیم نے لوگوں سے خطاب فرمایا اور آپ کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا۔(صحیح مسلم كتـاب الحـج بـاب جـواز دُخُولِ مَلَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضور الم کی اس سنت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: آنحضرت ا لم نہ بند بھی باندھا کرتے تھے اور سر اویل بھی خریدنا آپ کا ثابت ہے جسے ہم پاجامہ یا نبی کہتے ہیں۔۔۔علاوہ ازیں ٹوپی، کڑتہ ، چادر اور پگڑی بھی آپ کی عادت مبارک تھی۔“ (الحکم نمبر 14 جلد 7۔مؤرخہ 17 اپریل 1903ء صفحہ 8) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آقا و مطاع حضرت اقدس محمد مصطفی ایم کے حقیقی عاشق، آپ کے کامل متبع اور بچے غلام تھے۔پس آپ نے حضور الم کی سنت کے مطابق پگڑی کا استعمال فرمایا۔باقی جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پگڑی پہنے کی بجائے بالوں کی Knot بنانے کی بات ہے تو اس بارہ میں یاد رکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضور الم کی اعلیٰ درجہ کی اطاعت اور آپ سے حد درجہ کی محبت کے نتیجہ میں ظلی اور امتی نبی 95