بنیادی مسائل کے جوابات — Page 91
پسندیدہ اور نا پسندیدہ امر سوال: اسی ملاقات میں ایک سوال حضور انور کی خدمت اقدس میں یہ پیش ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کونسا امر سب سے پسندیدہ اور کونسا امر سب سے ناپسندیدہ ہے ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس بارہ میں فرمایا: جواب: بات یہ ہے کہ ہر ایک کے حالات کے مطابق عمل ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اس نے کہا کہ کونسی نیکی ہے جو میں اختیار کروں۔آپ نے فرمایا کہ تم اپنے ماں باپ کی خدمت کرو جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ایک دوسرا شخص آیا اس نے کہا کونسی نیکی ہے جو میں کروں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔آپ نے فرمایا کہ تم مالی قربانی کرو، یہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔تیسرا شخص آیا اس نے کہا بتا ئیں کو نسا عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے جو میں کروں۔آپ نے کہا اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔اسی طرح چوتھا شخص آیا اس کو ایک اور بات بتائی۔تو آنحضرت الیم ان کے حالات جانتے تھے اور پتا تھا کہ کس کس میں کون کون سی کمزوریاں ہیں۔کچھ ان کے حالات جاننے کی وجہ سے پتاہوں گی، کچھ اللہ تعالیٰ بھی رہنمائی کرتا ہو گا۔تو ہر ایک کے حالات کے مطابق عمل ہوتا ہے۔یہ انسان کو خود جائزہ لینا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات سو احکام دیئے ہیں۔نیکیاں بھی بتائیں ہیں ، نواہی بھی بتائے ہیں۔یہ بھی بتایا ہے کہ کیا کام کرنے ہیں اور کیا منع ہیں۔اوامر کیا ہیں اور نواہی کیا ہیں۔کرنے والے کام کیا ہیں اور نہ کرنے والے کام کیا ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بڑی لسٹ بتادی۔اب خود انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ میرے میں کونسی کمزوری ہے جس کو میں ڈور کروں اور کونسی نیکی ہے جو میں نہیں کرتا اس کو میں کروں۔تو اگر ہر ایک اپنا جائزہ لے کر خود یہ کرے تو اصلاح پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے اپنے نفس سے فتویٰ لینا چاہیئے۔ہر ایک فتویٰ Black and White میں ظاہر نہیں ہو جاتا۔اصولی طور پر یہی حکم ہے کہ اپنی کمزوریوں کو تلاش کرو اور ان کو دور کرنے کی کوشش کرو۔اور نہ صرف کمزوریاں دور کرو بلکہ نیکی بھی کرو۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے جو بنیادی اصول بتا دیا وہ یہ بتا دیا کہ تمہارے دو کام ہیں۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو، اس کی عبادت کا حق ادا کرو۔اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق 91