بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 52 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 52

کسی کا بیٹا ہے اور نہ کسی کا باپ اور کیونکر ہو کہ اس کا کوئی ہم ذات نہیں۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 417) تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے۔نہ کوئی ذات اس کی ذات جیسی ازلی اور ابدی یعنی آنادی اور اکال ہے۔نہ کسی چیز کی صفات اس کی صفات کی مانند ہیں۔انسان کا علم کسی معلم کا محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر اس کا علم کسی معلم کا محتاج نہیں اور باایں ہمہ غیر محدود ہے۔“ لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 155،154) یاد رکھو کہ انسان کی ہر گز یہ طاقت نہیں ہے کہ ان تمام دقیق در دقیق خدا کے کاموں کو دریافت کر سکے بلکہ خدا کے کام عقل اور فہم اور قیاس سے برتر ہیں اور انسان کو صرف اپنے اس قدر علم پر مغرور نہیں ہونا چاہیے کہ اس کو کسی حد تک سلسلہ علل و معلولات کا معلوم ہو گیا ہے کیونکہ انسان کا وہ علم نہایت ہی محدود ہے جیسا کہ سمندر کے ایک قطرہ میں سے کروڑ م حصہ قطرہ کا۔اور حق بات یہ ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ خود نا پیدا کنار ہے ایسا ہی اس کے کام بھی نا پیدا کنار ہیں۔اور اس کے ہر ایک کام کی اصلیت تک پہنچنا انسانی طاقت سے برتر اور بلند تر ہے۔۔۔ہم ایسے خدا کو نہیں مانتے جس کی قدر تیں صرف ہماری عقل اور قیاس تک محدود ہیں اور آگے کچھ نہیں۔بلکہ ہم اس خدا کو مانتے ہیں جس کی قدر تیں اس کی ذات کی طرح غیر محدود اور نا پید اکنار اور غیر متناہی ہیں۔“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 280 تا 282) فلاسفر جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے آسمان اور زمین کو دیکھ کر اور دوسرے مصنوعات کی ترتیب ابلغ و محکم پر نظر کر کے صرف اتنا بتاتا ہے کہ کوئی صانع ہونا چاہیئے مگر میں اس کے بلند تر مقام پر لے جاتا ہوں اور اپنے ذاتی تجربوں کی بنا پر کہتا ہوں کہ خدا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 352 مطبوعہ 2016ء) (قسط نمبر 53، الفضل انٹر نیشنل، 29 اپریل 2023ء ، صفحہ 4) 52