بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 47

سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے استفسار کیا کہ۔۔۔اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے قرآن مجید میں مذکر کا صیغہ کیوں استعمال کیا ہے؟ جواب: دنیا کی مختلف زبانوں میں مذکر اور مونث کے صیغے انسانوں میں جنسی فرق کرنے کے لئے بولے جاتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات وحدہ لا شریک ہے اور اس قسم کی تقسیم سے منزہ ہے۔ہاں خدا تعالیٰ نے ہمیں سمجھانے کے لئے اپنے متعلق خود کچھ باتیں بیان فرمائی ہیں لیکن وہ سب استعارہ کے رنگ میں ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ نہ مرد ہے اور نہ عورت اور وہ ہر قسم کی جنس سے پاک ہے۔اسی طرح دنیا کے تقریباً تمام معاشروں میں عورت کو مرد کی نسبت کمزور سمجھا جاتا ہے۔اسلام کی بعثت کے وقت عرب میں بھی یہی تصور پایا جاتا تھا۔چنانچہ قرآن کریم میں کفار کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنے لئے تو بیٹے چنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں چنیں ہیں۔یعنی وہ فرشتوں کو مونث کے صیغے سے پکارتے تھے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ اس کے متعلق فرماتا ہے کہ یہ بہت ہی بری تقسیم ہے جو وہ کرتے ہیں۔چنانچہ فرمایا الكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْأُنْتُي ـ تِلْكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيْزُي (سورة النجم : 22، 23) یعنی کیا تمہارے لئے تو بیٹے ہیں اور اس کے لئے بیٹیاں ہیں ؟ تب تو یہ ایک بہت ناقص تقسیم ٹھہری۔پس آغاز آفرینش سے ہی مؤنث کو کمزور اور مذکر کو اعلیٰ اور طاقتور سمجھا جاتا ہے۔عربی زبان میں بھی مذکر کا صیغہ کامل قوت اور قدرت والے پر دلالت کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ جو تمام قوتوں کا سر چشمہ اور وراء الوراء طاقتوں کا مالک ہے اس نے اپنے لئے وہ صیغہ استعمال فرمایا ہے جو انسانوں کی نظر میں بھی اس کی ذات کے قریب ترین قرار پاتا ہے۔ورنہ قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارہ میں جو تشبیہات بیان ہوئی ہیں وہ سب استعارہ کے طور پر ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَني کی مصداق ہے جیسا کہ فرمایا: فَاطِرُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَ مِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا يَذْرَؤُكُمْ فِيْهِ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ۔(سورة الشوري: 12) 47