بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 44

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں اپنے بیٹے کی بیماری کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ جب سب کچھ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تو وہ میرے بیٹے کو ٹھیک کیوں نہیں کر دیتا۔اگر کہا جائے کہ انسان کو اس کے اعمال کی سزا ملتی ہے۔تو میرا بیٹا تو پیدا ہی ایسا ہوا تھا، اس نے کونسا گناہ کیا ہے؟ یہ سب میری سمجھ سے باہر ہے۔مجھے یہ سب سمجھائیں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 04 فروری 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: خدا تعالیٰ جو کامل علم والی ہستی ہے، اس کے مقابلہ پر انسان کا علم بہت ہی ناقص اور نامکمل ہے۔اس لئے انسان کے لئے خدا تعالیٰ کے ہر فعل کی حکمت سمجھنانا ممکن ہے۔لہذا انسان کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارہ میں ایسا اعتراض کرنا زیب نہیں دیتا۔اس سے اس کے احسانات کی ناشکری کا اظہار ہوتا ہے۔کیونکہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمائی ہیں وہ ان گنت ہیں اور اگر ان کا انسان شکر ادا کرنا چاہے تو نا ممکن ہے۔اسی لئے آنحضور اللم نے فرمایا کہ انسان کے جسم کے ہر جوڑ پر ہر روز ایک صدقہ واجب ہوتا ہے۔کیونکہ اگر یہ جوڑ نہ ہوں تو اس کا سارا جسم بے کار ہو جائے۔پھر ایک اور نصیحت حضور ﷺ نے ہمیں یہ فرمائی کہ تم میں سے کوئی جب ایسے شخص کو دیکھے جو مال یا جسمانی ساخت میں اس سے بہتر ہے تو اسے اس شخص پر بھی نظر ڈالنی چاہیے جو مالی لحاظ سے یا جسمانی لحاظ سے اس سے کمزور ہے۔ان نصائح پر عمل کرنے سے انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا حقیقی شکر پیدا ہو تا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان کاموں میں بھی انسان کی ہی ترقی کے بہت سے راز مضمر ہیں۔اگر یہ دکھ ، تکالیف اور بیماریاں نہ ہو تیں تو انسان میں سوچنے اور ترقی کرنے کی تحریک ہی پیدا نہ ہوتی اور وہ ایک پتھر کی طرح جامد چیز بن کر رہ جاتا۔یہ تکالیف ہی ہیں جو انسان میں تحقیق اور جستجو کے مادہ کو متحرک رکھتی ہیں۔چنانچہ اکثر سائنسی تحقیقات اور ایجادات کے پیچھے انسانی تکالیف اور بے آرامی سے چھٹکارا پانے کی ایک مستقل جد وجہد کار فرما نظر آتی ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ جو تکالیف انسان کو پہنچتی ہیں وہ انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے دنیا کے نظام کو چلانے کے لئے ایک قانون قدرت بنایا اور دنیا میں بہت سی چیزیں پیدا کر کے انسان کو ان پر حاکم بنا دیا ہے۔اب اگر انسان بعض چیزوں سے فائدہ نہ اٹھائے یا ان چیزوں کا غلط 44