بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 39

اعلان نکاح میں ایجاب و قبول سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ کیا لڑکی اپنے نکاح کے موقع پر خود ایجاب و قبول کر سکتی ہے، نیز یہ کہ اعلان نکاح کے موقع پر حق مہر کا ذکر کرنا ضروری ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 22 جولائی 2019ء میں اس کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں مسلمانوں مردوں کو مومن عورتوں کے ساتھ اور مسلمان عورتوں کو مومن مردوں کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم دیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے مرد و خواتین دونوں کے لئے الگ الگ الفاظ استعمال کئے ہیں۔چنانچہ مردوں کے لئے فرمایا وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ کہ تم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو۔اور عورتوں کے لئے فرمایا وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِکِینَ کہ تم ( اپنی لڑکیاں) مشرک مردوں سے نہ بیاہا کرو۔گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے ولیوں پر ان کے نکاح کے انعقاد کی ذمہ داری ڈالی ہے۔اسی لئے اعلان نکاح کے موقع پر لڑکی کی طرف سے اس کا ولی ایجاب و قبول کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں: عورت خود بخود نکاح کے توڑنے کی مجاز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود بخود نکاح کرنے کی مجاز نہیں بلکہ حاکم وقت کے ذریعہ سے نکاح کو توڑا سکتی ہے جیسا کہ ولی کے ذریعہ سے نکاح کو کرا سکتی ہے۔“ ( آریہ دھرم صفحہ 32 ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 37) پس اعلان نکاح میں ایجاب و قبول کے وقت لڑکی کی طرف سے اس کا ولی یہ ذمہ داری ادا کرے گا اور یہی جماعتی روایت ہے۔جہاں تک اعلان نکاح میں حق مہر کے تذکرہ کی بات ہے تو یہ ضروری نہیں، کیونکہ قرآن کریم کے احکامات کے مطابق حق مہر کے تقرر کے بغیر بھی نکاح ہو سکتا ہے جیسا که فرمایا: لا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ 39