بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 35

ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: السُّنَّةُ عَلَي الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً وَ لَا يَمَسَّ امْرَأَةٌ وَلَا يُبَاشِرَهَا وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ وَ لا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ (سنن ابي داؤد كتاب الصوم باب المعتكف يعود المريض) ترجمہ : معتکف کے لئے مسنون ہے کہ وہ مریض کی عیادت نہ کرے اور نہ جنازہ میں شامل ہو اور نہ اپنی بیوی کو چھوئے اور نہ اس سے جسمانی تعلق قائم کرے۔اور سوائے اشد ضروری حاجت کے جس کے سوا چارہ نہ ہو مسجد سے باہر نہ جائے۔اور روزوں کے بغیر اعتکاف درست نہیں اور نہ ہی جامع مسجد کے علاوہ دوسری جگہوں پر اعتکاف درست ہے۔پس قرآن کریم اور احادیث نبویہ الم کے مطابق رمضان المبارک کا مسنون اعتکاف کم از کم دس دن ہو تا ہے اور اس کے لئے مسجد میں ہی بیٹھا جاتا ہے۔ہاں رمضان کے علاوہ عام دنوں میں اگر نیکی کے طور پر اور ثواب کی خاطر کوئی اپنے گھر میں چند دن کے لئے اعتکاف کرنا چاہتا ہے تو اس کی بھی اجازت ہے اور اس کی کہیں ممانعت نہیں ملتی۔علاوہ ازیں بعض فقہاء نے عورت کے گھر میں اعتکاف کرنے کو بہتر قرار دیا ہے۔چنانچہ فقہ کی مشہور کتاب ہدایہ میں لکھا ہے: امَّا الْمَرْأَةُ تَعْتَلِفُ فِي مَسْجِدِ بَيْتِهَا۔هدايه باب الاعتكاف یعنی عورت اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی جگہ میں اعتکاف بیٹھ سکتی ہے۔سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بارہ میں فرماتے ہیں: مسجد کے باہر اعتکاف ہو سکتا ہے مگر مسجد والا ثواب نہیں مل سکتا۔(روز نامہ الفضل 6 مارچ 1996ء) (قسط نمبر 1، الفضل انٹر نیشنل 27 اکتوبر تا02 نومبر 2020ء صفحہ 29) 35