بنیادی مسائل کے جوابات — Page 21
نبوت کا دروازہ بند ہو گیا۔حضرت عائشہ چونکہ آخرین میں مبعوث ہونے والے مسیح محمدی کے بارہ میں قرآن کریم اور حضور ایلم کی بیان فرمودہ دیگر بشارات سے بھی واقف تھیں اس لئے آپ نے اس زمانہ میں لوگوں میں پیدا ہونے والی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے یہ ارشاد فرمایا کہ وہ حضور الم کو خاتم النبیین ( نبیوں کی مہر تو کہیں یعنی اب جو بھی نبی دنیا میں مبعوث ہو گا وہ صرف اور صرف حضور ا کی اتباع اور آپ کے فیوض کی برکت سے ہو گا اور حضور ا تم ہی کی شریعت کے تابع ہو گا۔لیکن یہ نہ کہیں کہ آپ کے بعد کسی بھی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔کیونکہ بات حضور الم کے خاتم النبیین کے مقام کے منافی ہے۔حضور الم کا مقام خاتم النبیین ثابت ہی تب ہوتا ہے جب آپ کا کوئی اتنی آپ کے فیوض و برکات اور آپ ایم کی اتباع و اطاعت کی بدولت آپ سے ظلی ، بروزی اور امتی نبوت کا مقام حاصل کرے۔اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے بانی جماعت احمد یہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افترا کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔اس طرح پر میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفہ اللہ ہوں۔مگر پیشگوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا اس لئے جن کے دلوں پر پر دے ہیں وہ قبول نہیں کرتے۔میں جانتا ہوں کہ ضرور خدا میری تائید کرے گا جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتا رہا ہے۔کوئی نہیں کہ میرے مقابل پر ٹھہر 21