بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 593 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 593

نوجوان نسل سوال: اسی ملاقات میں ایک مربی صاحب نے حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ دیکھنے میں آتا ہے کہ نوجوان نسل کا زیادہ وقت باہر کے معاشرہ کے زیر اثر گزرتا ہے، انہیں ہم جماعت کے قریب کیسے لا سکتے ہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس سوال کے جواب میں فرمایا: جواب: تو ٹھیک ہے نوجوان مربیان جو ہیں یہ ان کا کام ہے۔آپ لوگ یہیں پہلے ہیں، یہیں بڑھتے ہیں، یہیں آپ نے گریجویشن کی ہے یا جو بھی تعلیم حاصل کی ہے، سیکنڈری سکول کی جو تعلیم حاصل کی ہے یا Abitur کیا یا جو بھی کیا تو آپ لوگوں کو اس ماحول کا پتہ ہے۔آپ بھی یہاں رہتے ہیں۔اس کے مطابق دیکھیں کہ کس طرح ان لوگوں کی تربیت کر سکتے ہیں۔اور اسی لئے میں کہتا ہوں کہ دوستیاں بنائیں، اسی لئے ذیلی تنظیمیں بھی ہیں۔ذیلی تنظیموں کا بھی کام ہے کہ اپنے لڑکوں کو اپنے ساتھ Involve کریں۔اور نوجوان مربیان جتنے بھی ہیں ان کا کام ہے کہ ان کی مدد کریں۔اس طرح کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ ٹھیک ہو جائے گا۔یہ تو کوشش ہے، ٹھیک ہے ماحول یہ ہے۔ماحول ہی تو ہمارے لئے چیلنج ہے۔اس ماحول میں ہی ہم نے ان کے حالات کے مطابق کوشش کرنی ہے۔کوئی نئی چیز تو نہیں ہے، کوئی نیا فارمولا تو نہیں ایسا بن جائے گا کہ آپ اس کو اپلائی کریں گے تو سارے لوگوں کی اصلاح ہو جائے گی اور وہ ولی اللہ بن جائیں گے، کوئی نہیں بنے گا۔نہ ایک دن میں آپ لوگ اپنے سارے ٹارگٹ Achieve کر سکتے ہیں۔یہ تو ایک مسلسل کوشش ہے تاکہ ان کا جماعت کے افراد کے ساتھ تعلق قائم رہے اور ان کو یہ احساس ہو تا رہے کہ ہاں ہماری ایک اور ذمہ داری بھی ہے کہ جو ہم نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عہد کیا ہوا ہے اس کو بھی ہم نے پورا کرنا ہے۔یہ احساس آہستہ آہستہ دلاتے رہیں۔آپ کی تنظیموں کا افراد جماعت سے یا ذیلی تنظیموں کے ممبران جو ہیں ، خدام سے ، لجنہ سے، انصار سے، ان کا جتنا رابطہ ہو گا، اتنازیادہ اثر ہو گا۔مربیان ان سے تعلق رکھنے کا اپنے آپ کو جتنا زیادہ وقت دیں گے اتنا زیادہ اثر ہو گا۔یہ تو ایک مسلسل کوشش ہے اور یہ جاری رکھنی ہے۔اس کے لئے کوئی Hard and fast فارمولا نہیں بنایا جا سکتا۔ہر ایک کے حالات کے 593