بنیادی مسائل کے جوابات — Page 506
زر درنگ کے لباس کے استعمال جس کے نتیجہ میں ان برائیوں اور ان دنیوی آسائشوں کی طرف میلان نہ پیدا ہو تا ہو ، اس کی اجازت دی ہو۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام، تابعین اور بعد میں آنے والے علماء و فقہاء کا مر دوں کے لئے اس رنگ کے لباس کے استعمال میں اختلاف پایا جاتا ہے۔اکثریت نے جن میں حضرت ابو حنیفہ ، حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی شامل ہیں اس کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے۔جبکہ بعض نے اسے مکروہ تنزیہی (جس کام کے ترک کرنے میں سختی نہ پائی جاتی ہو۔یا جس کام کے نہ کرنے سے ثواب ہو اور کرنے سے سزا کی وعید نہ ہو) قرار دیا ہے۔پس حضور الم نے جس خاص زرد رنگ یا خاص Shade کے استعمال سے مسلمانوں کو منع فرمایا تھا حضرت عثمان نے اس رنگ یا اس Shade کو ہر گز استعمال نہیں فرمایا بلکہ یہ وہ زرد رنگ تھا جو حضور یم نے بھی استعمال فرمایا اور دیگر صحابہ بھی استعمال کیا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت عثمان کے لباس کے رنگ کے لئے ان روایات میں اصفر اور صفرہ کے الفاظ آئے ہیں ، معصفر اور زعفران کے الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔(قسط نمبر 37، الفضل انٹر نیشنل 08 جولائی 2022ء صفحہ 10) 506